آسام میں سب سے بدعنوان حکومت کو ہٹانے کا وقت آ گیا: ملکارجن کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے گوہاٹی میں پریس کانفرنس کے دوران آسام حکومت پر شدید بدعنوانی کے الزامات عائد کیے، خواتین کی اسکیم جاری رکھنے کا وعدہ کیا اور 9 اپریل کو ووٹ دے کر تبدیلی لانے کی اپیل کی

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آسام کے گوہاٹی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ووٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات کی مہم اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے اور 9 اپریل کو ووٹنگ ہونے والی ہے، ایسے میں عوام کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ایک بدعنوان حکومت کو اقتدار سے باہر کریں۔

کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ آسام میں موجودہ حکومت نہ صرف بدعنوان ہے بلکہ اس میں تکبر بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں شاید ہی کوئی ایسا وزیر اعلیٰ ہو جس پر اس قدر بدعنوانی اور غرور کے الزامات ہوں۔ ان کے مطابق ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور زمینیں، کاروبار اور دیگر اثاثے مخصوص لوگوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی وزراء اور حکومتی افراد مختصر مدت میں کروڑوں روپے کے مالک بن گئے ہیں۔

انہوں نے عوامی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آسام کے لوگ اپنی تہذیب اور روایات سے محبت کرتے ہیں اور وہ ایک ایسے وزیر اعلیٰ کو قبول نہیں کر سکتے جو ان اقدار کا احترام نہ کرتا ہو۔ کھڑگے نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی ترقی کے بجائے ذاتی مفادات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔


کانگریس صدر نے خواتین کے لیے جاری مالی امدادی اسکیم پر بھی بات کی اور یقین دہانی کرائی کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو نہ صرف یہ اسکیم جاری رکھی جائے گی بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین میں یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ حکومت بدلنے پر یہ سہولت ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف بات تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر اس کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الزامات غلط ہیں تو متعلقہ ادارے وضاحت کیوں نہیں دیتے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے انتخابی نتائج کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق پارٹی کو اپنے سروے اور زمینی فیڈبیک کی بنیاد پر 72 سے 73 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کھڑگے نے کہا کہ کانگریس ایک طویل تاریخ رکھنے والی جماعت ہے اور اس میں وقتاً فوقتاً کچھ لوگ پارٹی چھوڑتے رہے ہیں، لیکن اس سے پارٹی کی بنیادیں کمزور نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کے لیے کام کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔


انہوں نے مذہب کے استعمال پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ سیاست میں مذہبی جذبات کو شامل کرنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق آئین ہی سب سے بڑا رہنما ہے اور اسی کے تحت کام ہونا چاہیے۔

آخر میں کھڑگے نے آسام کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالیں اور ایک ایماندار، باوقار اور عوامی مفاد میں کام کرنے والی حکومت کا انتخاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی کانگریس کی نہیں بلکہ عوام کی ہے، اور عوام ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔