رام نومی کے موقع پر دہلی کے اُتم نگر میں سخت سکیورٹی، 650 پولیس اہلکار اور سی آر پی ایف تعینات

رام نومی کے پیش نظر دہلی کے اُتم نگر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ 650 پولیس اہلکار، سی آر پی ایف یونٹس اور خفیہ ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ تہوار پر امن طریقے سے منعقد ہو سکے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: رام نومی کے موقع پر قومی راجدھانی دہلی کے اُتم نگر علاقے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ تہوار کو پُرامن ماحول میں مکمل کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے 650 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے، جب کہ 12 نیم فوجی یونٹس بھی علاقے میں متحرک کیے گئے ہیں جن میں سی آر پی ایف کے جوان شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اس بار سکیورٹی کا نظام کثیر سطحی رکھا گیا ہے، جس کے تحت حساس مقامات پر خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے علاقے میں 25 خصوصی پکٹ قائم کیے ہیں، جہاں مستقل طور پر اہلکار تعینات رہیں گے۔ ان مقامات میں اُتم نگر تھانہ روڈ، کالی بستی، قبرستان و عیدگاہ روڈ اور والمیکی مندر چوک جیسے اہم علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں کو حساس قرار دیتے ہوئے یہاں اضافی چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اُتم نگر، ڈابری اور بنداپور تھانوں کی مشترکہ ٹیمیں بھی مسلسل گشت کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ پولیس اہلکار نہ صرف مرکزی چوراہوں بلکہ تنگ گلیوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں بھی موجود ہیں، جہاں کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔

سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دوارکا ضلع کے آپریشن سیل نے سادہ لباس میں خفیہ ٹیمیں بھی تعینات کی ہیں۔ یہ ٹیمیں عام شہریوں کے درمیان رہ کر حالات کا جائزہ لے رہی ہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری اطلاع اور کارروائی کو یقینی بنا رہی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی طور پر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔


حال ہی میں ہولی کے دوران پیش آئے ترون قتل معاملے کو بھی اس اضافی چوکسی کی ایک بڑی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ اس واقعے میں 26 سالہ نوجوان کو قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں اب تک 14 افراد کو گرفتار کیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

پچھلے کچھ دنوں میں بعض شدت پسند عناصر کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات بھی سامنے آئے تھے، جن میں تہوار کے دوران بدامنی پھیلانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ تاہم عدالت کی ہدایت اور سخت سکیورٹی انتظامات کے باعث عید کا تہوار پُرامن طریقے سے منعقد ہوا تھا۔ اسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے اس بار بھی انتظامیہ نے کسی قسم کی لاپرواہی نہ برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ تہوار کے دوران امن و امان میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سینئر افسران کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

رام نومی ہندو دھرم کے اہم تہواروں میں شمار ہوتا ہے، جو بھگوان رام کی پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں عقیدت اور جوش و خروش دیکھا جاتا ہے۔ لوگ روزہ رکھتے ہیں، پوجا کرتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ دہلی میں بھی مختلف مقامات پر تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، جن کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔