بہار: جموئی میں اسکولی طالبات سے ہراسانی، 3 ملزمان گرفتار، بہار خواتین کمیشن نے لیا نوٹس

جموئی میں دو اسکولی طلبہ سے ہراسانی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ بہار خواتین کمیشن نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایم اور ایس پی کی کارروائی کو سراہا

گرفتار، علامتی تصویر آئی اے این ایس
i

پٹنہ: بہار کے جموئی ضلع میں دو اسکولی طلبہ کے ساتھ ہراسانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ معاملے کا بہار ریاستی خواتین کمیشن نے بھی نوٹس لیا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن اپسرا نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا اور پورے معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی۔

اپسرا نے آئی اے این ایس سے بات چیت میں بتایا کہ خواتین کمیشن کو پیر کی صبح میڈیا کے ذریعے واقعے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد کمیشن نے فوری کارروائی شروع کی اور مقامی انتظامیہ سے معاملے کی معلومات حاصل کیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس پی کو خط لکھا۔ اس کے علاوہ جموئی کے ڈی ایم سے بات کرکے واقعے کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔‘‘ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کے مطابق یہ واقعہ 19 ستمبر کی شام لکھی سرائے اور جموئی کے سرحدی علاقے میں پیش آیا تھا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ مقامی انتظامیہ کے علم میں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اسکوٹی کی نمبر پلیٹ کی بنیاد پر متاثرہ طلبہ کی شناخت کی۔ اس کے بعد ان سے بات چیت کی گئی اور معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔


سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دسویں جماعت میں زیر تعلیم ایک طالب علم اور ایک طالبہ کے ساتھ کچھ افراد کی جانب سے ہراسانی کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔ اپسرا نے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے کمیشن کو بتایا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموئی کے ڈی ایم نے پیر کی شام تک معاملے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کے علم میں معاملہ آنے کے بعد تیزی سے کارروائی کی گئی۔

خواتین کمیشن کی چیئرپرسن نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد جس تیزی سے کارروائی کی گئی اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے جموئی کے ڈی ایم اور ایس پی کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔ کمیشن کی ٹیم کے موقع پر جانے اور متاثرہ طلبہ سے ملاقات کے سوال پر اپسرا نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر کمیشن کی ٹیم جموئی کا دورہ کرے گی اور واقعے کے حالات و واقعات کی مکمل معلومات حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ جو بھی شخص قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ خواتین کمیشن نے مقامی حکام سے معاملے کی تفصیلی اور تازہ رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ کمیشن انتظامیہ سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر آئندہ کی کارروائی طے کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔