دہلی اسمبلی، میٹرو اور اسپیکر کو بم سے اُڑانے کی دھمکی، بجٹ اجلاس کے دوران مچی کھلبلی
ای میل میں لیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) ترنجیت سندھو، وزیر اعظم مودی وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر خارجہ جے شنکر کے علاوہ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور کابینہ کے وزیر منجندر سنگھ سرسا کے نام بھی ہیں۔
دہلی کا بجٹ آج منگل کو پیش کیا جارہا ہے، اس سے چند ساعت پہلے اسمبلی میں بم کی دھمکی نے کھلبلی مچا دی ہے۔ خبر کے مطابق منگل کو صبح دہلی اسمبلی، دہلی میٹرو اور اسپیکر وجیندر گپتا کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دی گئی۔ یہ دھمکی ایک گمنام ای میل کے ذریعے دی گئی تھی جس کے بعد اسمبلی اور اطراف میں کھلبلی مچ گئی۔ پورے اسمبلی احاطے میں سکیورٹی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی بم نہیں ملا ہے۔
دراصل اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا کو منگل کی صبح 7:49 پر ایک ای میل موصول ہوا۔ اس سے پہلے اسمبلی کے ای میل ایڈریس پر صبح 7:28 پر دھمکی آمیز ای میل آیا تھا۔ ای میل میں لیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) ترنجیت سندھو، وزیر اعظم مودی وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر خارجہ جے شنکر کے علاوہ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور کابینہ کے وزیر منجندر سنگھ سرسا کے نام بھی ہیں۔ اس دھمکی کے بعد بجٹ اجلاس کو آدھا گھنٹہ ملتوی کر دیا گیا۔
بم کی دھمکی ملنے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور تحقیقات شروع کردی۔ پولیس کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ ہم نے احاطے میں اور اس کے ارد گرد سیکورٹی سخت کر دی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے ای میل کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، جب کہ تخریب کاری کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران یہ دھمکی اور بھی سنگین ہو گئی۔ ایوان میں بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں جاری تھیں تاہم دھمکیوں کے باعث کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ اسپیکر کے دفتر نے سکیورٹی چیک کرنے اور ارکان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کو آدھا گھنٹہ ملتوی کردیا۔ اسمبلی احاطے میں افراتفری کا ماحول تھا، کئی ممبران اسمبلی نے ایوان میں سیکورٹی انتظامات پر بھی سوال اٹھائے۔
بجٹ اجلاس سے عین قبل اس دھمکی آمیز ای میل نے پوری انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ دہلی اسمبلی کی تاریخ میں اس طرح کی دھمکیاں پہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن اس بار حساس وقت پر آنے سے ماحول مزید کشیدہ ہوگیا ہے۔ عام لوگوں اور میٹرو مسافر بھی الرٹ پر ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔