ایران کے سمندر میں پھیل چکا ہے ہزاروں بیرل تیل، رساؤ سے فکر مند اقوام متحدہ نے کیا متنبہ، قطر کو بھی خطرہ لاحق
نیا تیل رساؤ اتوار کی صبح تقریباً 11 بجے دیکھا گیا۔ اس کا پھیلاؤ تقریباً 12 سے 20 مربع کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے ملنے والا بڑا تیل رساؤ تقریباً 65 مربع کلومیٹر علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔

ایران کے خارگ جزیرے کے قریب ایک اور مشتبہ تیل رساؤ سامنے آنے کے بعد خلیجی خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ سمندری نگرانی کرنے والی کمپنی ’ونڈورڈ اے آئی‘ کے مطابق یہ دوسرا تیل کا دھبہ ایسے وقت دیکھا گیا ہے، جب 8 مئی کو ملنے والا بڑا تیل رساؤ مسلسل سعودی عرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ماحولیات کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتا ہے۔
نیا تیل رساؤ اتوار کی صبح تقریباً 11 بجے دیکھا گیا۔ اس کا پھیلاؤ تقریباً 12 سے 20 مربع کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے ملنے والا بڑا تیل رساؤ تقریباً 65 مربع کلومیٹر علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس میں ہزاروں بیرل خام تیل شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تیل تقریباً 4 دنوں میں قطر کے سمندری علاقے تک پہنچ سکتا ہے اور تقریباً 13 دنوں میں یو اے ای کے المرفا علاقے کے قریب ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔
ایران نے اس واقعپ کے لیے غیر ملکی جہازوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایران کے صوبہ بوشہر کے رکن پارلیمنٹ جعفر پورک بگانی نے دعویٰ کیا کہ یورپی ٹینکروں نے سمندر میں تیل اور گندا پانی چھوڑا ہے۔ ونڈورڈ اے آئی کے مطابق یہ خام تیل کا رساؤ معلوم ہوتا ہے، نہ کہ جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کا۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ پائپ لائن خراب ہونے یا جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے کے دوران پیش آنے والی خرابی کی وجہ سے ہوا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے ماہر ڈاکٹر کاوہ مدنی کا کہنا ہے کہ اس تیل رساؤ کی وجوہات پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیل کا یہ دھبہ خارگ جزیرے کے جنوب مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ مزید بڑا ہوا تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ پرانی پائپ لائن یا پھر توانائی کے نظام سے بڑا رساؤ ہو رہا ہے۔ سمندری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اصل وجہ پرانی پائپ لائن، خراب انفراسٹرکچر یا جنگ جیسے حالات ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایران کی آئل ٹرمینلز کمپنی نے کسی بھی قسم کے رساؤ سے انکار کیا ہے۔
ڈاکٹر مدنی نے کہا کہ اگر تیل آبادی والے علاقوں کے قریب پہنچتا ہے تو سمندر کے پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال خطرہ کم سمجھا جا رہا ہے۔ مدنی نے بتایا کہ جس علاقے میں یہ رساؤ ہوا ہے وہاں بڑی تعداد میں پائپ لائنیں اور تیل سے متعلق انفراسٹرکچر موجود ہے۔ ڈاکٹر کاوہ مدنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے لیے بھی ان نظاموں کی دیکھ بھال کرنا مشکل رہا ہے۔ خلیج فارس میں پانی کا بہاؤ بہت سست ہے، اس لیے تیل کی آلودگی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ڈاکٹر مدنی نے یاد دلایا کہ خلیجی جنگ اور ایران-عراق جنگ کے دوران بھی ایسے تیل رساؤ کے اثرات سمندری حیات، مچھلی کے کاروبار، ساحلی علاقوں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹوں پر پڑے تھے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
