’یہ نشی کانت دوبے نہیں، بلکہ نیچ کانت دوبے ہیں‘، آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ نے دیا جواب
سدھاکر سنگھ نے کہا، ’’نشی کانت دوبے بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ وہ مجرموں سے ملے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ہم ان کے خلاف کئی اہم ثبوٹ اور حقائق پیش کریں گے‘‘

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ نے جواہر لال نہرو کے خلاف بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے تبصرے پر اعتراض کیا ہے۔ سدھاکر سنگھ نے کہا، ’’نشی کانت دوبے ایک بدعنوان شخص ہیں اور مجرموں سے ملے ہوئے ہیں۔‘‘ آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے گفتگو کر رہے تھے۔
سدھاکر سنگھ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’وہ نشی کانت دوبے نہیں، بلکہ نیچ کانت دوبے ہیں۔ ان کا ایک واحد کام ہندوستان کی جمہوریت کو کمزور کرنا ہے۔ وہ پارلیمنٹ میں کسی بھی سنگین مسئلے پر بات نہیں کرتے، اس کے بجائے وہ ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑنے والے عظیم لیڈران کی شان میں غیر شائستہ الفاظ ادا کرتے ہیں اور ان کی شبیہ خراب کرتے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔‘‘
سدھاکر سنگھ نے کہا کہ ’’نشی کانت دوبے بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ ان کے خلاف درجنوں ثبوت موجود ہیں۔ وہ مجرموں سے ملے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ہم ان کے خلاف کئی اہم ثبوٹ اور حقائق پیش کریں گے۔‘‘ پیپر لیک معاملے پر سدھاکر سنگھ نے کہا کہ ’’بی جے پی کی حالت خراب ہو گئی ہے۔ بہار میں طلباء تحریک اور طلباء پر پولیس کی فائرنگ، ساتھ ہی بھرت تیواری کے انکاؤنٹر کی وجہ سے حکومت کی شبیہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب آپ دیکھیں کہ بانکی پور ضمنی انتخاب میں بی جے پی پیچھے ہو گئی ہے۔ آر جے ڈی ایک مضبوط اپوزیشن ثابت ہوئی ہے۔ وہاں آر جے ڈی امیدوار کی جیت یقینی ہے۔‘‘
اینٹی پیپر لیک بل پر انہوں نے کہا کہ ’’پیپر لیک کے خلاف پہلے سے ہی قانون موجود تھا۔ اس میں ترمیم کا مطالبہ کس نے کیا؟ کیا طلباء نے کہا تھا کہ قانون میں ترمیم کیجئے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’دراصل حکومت کارروائی کرنا نہیں چاہتی ہے۔ حکومت بدعنوانوں اور پیپر لیک کرنے والوں کو بچانے کے لیے بھٹکا رہی ہے اور پارلیمنٹ کا وقت برباد کر رہی ہے۔ حکومت قانون میں جوابدیہی طے کرنا نہیں چاہتی۔ سی بی آئی نے 17-18 پیپر لیک معاملوں میں کسی ایک شخص کو بھی سزا نہیں دی۔ اس لیے نئے قانون سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ انہوں نے آگے کہا کہ ’’نئے قانون میں 50 لاکھ کی جگہ 5 کروڑ لکھ دینے اور سزا 4 سال سے بڑھا کر 8 سال کردینے سے کیا ہوگا۔ حکومت نے 4 سال سزا بھی کسے دلائی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
