تیسری زبان چھٹی جماعت سے پڑھائی جائے، سہ لسانی پالیسی پر سپریم کورٹ کا اہم بیان، آئندہ سماعت 11 اگست ہوگی
سہ لسانی پالیسی پر سماعت کے دوران جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ ’’اگر کسی تیسری زبان کو پڑھانا ہے، تو اس کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی ہونا چاہیے نہ کہ نویں جماعت سے۔‘‘

سپریم کورٹ میں سہ لسانی پالیسی سے متعلق عرضیوں پر سماعت کے دوران جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ اگر کسی تیسری زبان کو پڑھانا ہے، تو اس کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی ہونا چاہیے نہ کہ نویں جماعت سے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ امتحانات کی تیاری کے دور میں نئی زبان لازمی کرنے سے طلبہ پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہ تبصرہ تمل ناڈو حکومت کی اس اپیل پر سماعت کے دوران سامنے آیا ہے جس میں ریاست میں ’جواہر نوودے ودیالیوں‘ کے قیام اور سہ لسانی پالیسی کو لے کر اٹھائے گئے اعتراضات پر غور کیا جا رہا تھا۔
جمعرات کو سی بی ایس ای کے نصاب کے تحت نویں جماعت کی سطح پر تیسری زبان کے آغاز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ اس سے بورڈ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔ یہ تبصرہ ریاست کے ہر ضلع میں جواہر نوودے ودیالیوں (جے این وی) کے قیام کو آسان بنانے کے مدراس ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف تمل ناڈو حکومت کی اپیل کی سماعت کے دوران کیا گیا۔ تمل ناڈو نے اسکولوں کی جانب سے اپنائی جانے والی سہ لسانی پالیسی پر خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جواہر نوودے ودیالے یعنی جے این وی کے قیام کی مسلسل مخالفت کی ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں سی بی ایس ای کی لسانی پالیسی کی قانونی حیثیت براہ راست زیر بحث نہیں تھی۔ جسٹس ناگرتنا نے سماعت کے دوران تیسری زبان شروع کرنے کے وقت پر متعدد تبصرے کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں ہندی کو تیسری زبان کے طور پر لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی زبان سکھائی جانی چاہیے، انگریزی اور کوئی بھی تیسری زبان پڑھائی جانی چاہیے۔ پالیسی میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ تیسری زبان لازماً ہندی ہی ہو۔ ہائی کورٹ میں درخواست گزار این جی او کی وکیل جی پریا درشنی نے بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی ریاست پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔
جسٹس ناگرتنا نے ریاست سے پوچھا کہ آپ ہندی نہیں چاہتے۔ لیکن اگر یہ سنسکرت ہے، تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ ریاست کے وکیل نے جواب دیا کہ تیسری زبان صرف نویں جماعت سے لازمی ہوتی ہے۔ اس معاملے پر جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ اگر کوئی بھی تیسری زبان پڑھائی جانی ہے، تو اسے چھٹی جماعت سے ہی پڑھایا جانا چاہیے۔ معاملے کی اگلی سماعت 11 اگست ہوگی۔
نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت سی بی ایس ای نے ملحقہ اسکولوں میں سہ لسانی پالیسی کو نافذ کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت سی بی ایس ای سے وابستہ اسکولوں کے طلبہ کو 3 زبانیں پڑھنی ہوں گی، جو لازمی ہوں گی۔ ان 3 زبانوں میں 2 ہندوستانی زبانیں پڑھنا لازمی ہے، جبکہ ایک غیر ملکی زبان ہوگی۔
سی بی ایس ای نے زبانوں کو آر1، آر2 اور آر3 زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ آر1 میں ذریعہ تعلیم اور مادری زبان شامل ہے، جبکہ آر2 میں طلبہ کی طرف سے منتخب کی گئی دوسری ہندوستانی زبان رکھی گئی ہے اور تیسری زبان میں غیر ملکی زبانوں کو رکھا گیا ہے۔ رواں سیشن سے لسانی پالیسی کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی دسویں جماعت تک کے طلبہ کو اس سے راحت دی گئی ہے۔ حالانکہ 7ویں، 8ویں اور 9ویں کلاس کے طلبہ کو تیسری زبان کے لیے دسویں کا بورڈ امتحان نہیں دینا ہوگا، لیکن انہیں انٹرنل امتحان دینا ہوگا۔ فیل ہونے کی صورت میں دسویں کا بورڈ سرٹیفکیٹ روکا جا سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
