’طلبہ کی بات کرنے نہیں دیتے، احتجاج کی اجازت نہیں دیتے‘، پرینکا گاندھی کا مودی حکومت پر سخت حملہ

پرینکا گاندھی نے مودی حکومت پر پارلیمنٹ میں طلبہ کے مسائل پر بحث نہ کرانے اور احتجاج کی اجازت نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی آواز ہر حال میں بلند کی جائے گی

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مودی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن کو نہ تو پارلیمنٹ میں طلبہ کے مسائل پر بات کرنے دی جاتی ہے اور نہ ہی جمہوری انداز میں احتجاج کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف پی ایم ہاؤس کے قریب احتجاج کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ گزشتہ روز طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انتہائی غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان اور طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی دمنی کارروائی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

پرینکا گاندھی نے کہا، ’’جب ہم پارلیمنٹ میں بحث چاہتے ہیں تو بحث نہیں کرائی جاتی۔ جب قائد حزب اختلاف اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں موقع نہیں دیا جاتا اور جب ہم احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو اس کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن وہاں پہنچ گئی جہاں حکومت کو اس کی توقع نہیں تھی۔ ان کے مطابق طلبہ کے مسائل اور ان کے مطالبات جائز ہیں اور عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے نوجوانوں کی آواز بلند کرنا اپوزیشن کی آئینی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ جمہوریت میں پُرامن احتجاج ایک بنیادی حق ہے اور جہاں بھی ضرورت پڑے گی، کانگریس نوجوانوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ووٹ دے کر اپنے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا ہے، اس لیے پارلیمنٹ، جمہوریت اور ملک پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا۔


انہوں نے کانگریس کے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ ملک کے تباہ حال تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے، مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے اور پارلیمنٹ میں طلبہ کے مسائل پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے کوئی جامع قانون سازی کیوں نہیں کی جا رہی۔

پرینکا گاندھی نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ’وندے ماترم‘ کا مطلب مادرِ وطن کا احترام ہے تو اس احترام کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک کے بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن طلبہ کے مستقبل سے متعلق اہم مسائل پر بحث کا مطالبہ کرتی ہے تو حکومت موضوع کو دوسری جانب موڑنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اپوزیشن کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نوجوانوں کی آواز کو پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر بلند کرتی رہے گی اور طلبہ کے حقوق، شفاف امتحانی نظام اور تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے طلبہ پر پولیس کارروائی، پیپر لیک کے واقعات اور تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث، مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ راہل گاندھی سے ملاقات کے لیے پہنچے مگر مذاکرات ناکام رہے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے راہل، پرینکا اور اکھلیش سمیت اپوزیشن کے متعدد سرکردہ لیڈران کو حراست میں لے لیا۔


احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے اپوزیشن رہنماؤں کو بعد ازاں مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ کانگریس کے مطابق پرینکا گاندھی واڈرا کو مندر مارگ پولیس اسٹیشن، راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم جبکہ دیگر کئی ارکان پارلیمنٹ اور اپوزیشن رہنماؤں کو کنگزوے کیمپ لے جایا گیا۔ اس دوران کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی بھی حراست میں لیے گئے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچیں اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

بعد ازاں دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد پرینکا گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے متعلق مسائل کو پارلیمنٹ میں دوبارہ اٹھایا جائے گا، جبکہ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’مودی جی! ہر زور آزما لیجیے، ساری طاقت لگا لیجیے، طلبہ کے انصاف کی یہ لڑائی اب نہ رکے گی اور نہ ہی جھکے گی۔‘‘ اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ طلبہ کے حقوق، تعلیمی اصلاحات اور پیپر لیک جیسے معاملات پر حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ جاری رکھیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔