بابَری مسجد کے مقام پر ’ہندو ڈھانچہ‘ موجود تھا، ہندو فریق کی دلیل
ایودھیا معاملے میں جمعرات کو ہندو فریق نے پانچ رکنی آئینی بنچ کو کئی تصاویر سونپیں تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ بابری مسجد کی بنیاد ستونوں پر رکھی گئی تھی

نئی دہلی: ایودھیا معاملے میں جمعرات کو ہندو فریق نے پانچ رکنی آئینی بنچ کو کئی فوٹوگراف سونپیں تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ بابری کی بنیادستونوں پر رکھی گئی تھی۔
سپریم کورٹ اس معاملے کی سماعت 6 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر کررہی ہے۔ ستمبر 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے متنازعہ 77ء2 ایکڑ زمین کو تین فریقوں کو دیئے جانے کا فیصلہ سنایا تھا اور اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں متعدد عرضیاں داخل گئیں تھیں۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی آئینی بنچ میں جسٹس ایس اروند بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنذیر شامل ہیں۔ ہندو فریق کے وکیل سی ایس بید ناتھن نے کہا کہ تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ بابری مسجد کو ستونوں پر کھڑ ا کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش کے سلسلے میں تنازعہ ہے۔ رام کوٹ بودھوں کی جگہ تھی۔ اگر یہاں ہندوؤں کے ذریعہ صدیوں سے پوجا کی جاتی رہی ہے تو اس میں اور تنازعہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ایک ہندو ڈھانچہ تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔