بجٹ میں جموں و کشمیر کے لئے شعر و شاعری کے سوا کچھ بھی نہیں: سیاسی جماعتوں کا ردعمل

سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے مرکزی بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ ملک کے لئے بالعموم اور جموں و کشمیر کے لئے بالخصوص انتہائی مایوس کن ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: مرکزی حکومت کی طرف سے ہفتہ کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سالانہ بجٹ کے ردعمل میں جموں و کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ اس بجٹ میں جموں و کشمیر کے لئے شعر و شاعری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

بتادیں کہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ہفتہ کے روز پارلیمنٹ میں مودی سرکار کے دوسرے بجٹ کا آغاز کشمیر سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر دینا ناتھ نادم کی نظم 'میون وطن' یعنی میرے وطن کے ایک شعر سے کیا۔ سری نگر کے حبہ کدل علاقے میں سال 1916 میں جنمے دینا ناتھ کول نادم نے کشمیری کے علاوہ اردو، انگریزی اور ہندی زبانوں میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے ہفتہ کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سالانہ بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بجٹ میں جموں و کشمیر کے لئے شعر شاعری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ 'مرکزی بجٹ میں جموں و کشمیر کے لئے شعر و شاعری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، جس حکومت کے دل میں جموں و کشمیر کے لئے جگہ ہی نہ ہو، اس حکومت کے بجٹ میں کہاں جگہ ہوگی'۔ موصوف صدر نے کہا کہ ہمیں لگتا تھا کہ یہ حکومت اب چھ سال پرانی ہے لہٰذا اب کچھ ان کے سمجھ میں آیا ہوگا لیکن اس بجٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ملک کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ (بی جے پی) جموں و کشمیر خاص کر کشمیر کے اقتصادی حالات کے بارے میں قطعی متفکر نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو مابعد پانچ اگست ہوئے نقصان کا بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے مرکزی بجٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لئے دلی کے ہاتھ ہمیشہ خالی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دلی نے جموں و کشمیر کے بارے میں ہمیشہ سے ہی صرف بڑی باتیں کی ہیں تاکہ سادہ لوح ہندوستانیوں کو ایک تاثر دیا جائے۔ کمال نے کہا کہ امت شاہ دفعہ 370 کو جموں و کشمیر کی ترقی میں رکاوٹ قرار دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ دفعہ 370 نہ ہوتی تو کشمیر میں ہر چھت سونے کی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا فریب ہے۔


سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے مرکزی بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ ملک کے لئے بالعموم اور جموں و کشمیر کے لئے بالخصوص انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ما بعد پانچ اگست ہمارا سب کچھ تباہ ہوکر رہ گیا جس کو دنیا سے زیادہ دیر تک اب نہیں چھپایا جاسکتا۔

موصوف لیڈر نے کہا کہ کشمیر کے کسانوں سے لے کر تاجروں تک ہوئے کروڑوں روپے کے نقصان کا بجٹ میں کوئی ذکر تک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ شاعری کے چند الفاظ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ تاریگامی نے کہا کہ اس سرکار نے صرف سبز باغ دکھائے ہیں لیکن اب لوگوں کو زیادہ دیر تک دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔


یو این آئی اردو نے بی جے پی کے جموں و کشمیر یونٹ کے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشنز) کے ساتھ بجٹ کے بارے میں تاثرات حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'میں اس وقت لیہہ میں ہوں، میں نے بجٹ کو اسٹیڈی نہیں کیا ہے۔ میں پہلے اسٹیڈی کروں گا پھر ہی کچھ بتا سکتا ہوں'۔ انہوں نے دینا ناتھ کول نادم کی شاعری کے بارے میں بھی لب کشائی کرنے سے احتراز و احتیاط کو ہی ترجیح دی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔