’بہار میں لا اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز نہیں بچی‘، ارریہ میں پیش آئے دوہرے قتل معاملہ پر تیجسوی یادو کا سخت ردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تیجسوی یادو نے لکھا کہ ’’ارریہ ضلع کے فاربس گنج میں ایک شخص نے سرعام بیچ بازار میں دوسرے شخص کا گلا کاٹ دیا اور سینکڑوں لوگوں کے درمیان اس کا سر لے کر گھومتا رہا۔‘‘
بہار کے ارریہ ضلع کے فاربس گنج میں جمعرات کو ایک شخص نے دوسرے شخص کا سر کاٹ کر بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے ملزم کو پکڑ لیا اور اسے بھی پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ اس واقعہ کے بعد بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے بہار کے لا اینڈ آرڈر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’بہار میں این ڈی اے راج نہیں، بلکہ مہاچوپٹ راج ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تیجسوی یادو نے لکھا کہ ’’یہ ہے بہار کی خوفناک صورتحال، ارریہ ضلع کے فاربس گنج میں ایک شخص نے سرعام بیچ بازار میں دوسرے شخص کا گلا کاٹ دیا اور سینکڑوں لوگوں کے درمیان اس کا سر لے کر گھومتا رہا۔‘‘ انہوں نے پوسٹ میں آگے لکھا کہ ’’بعد میں مقتول کے اہل خانہ نے قاتل کو تلاش کر اس کو بھی قتل کر دیا۔ پولیس بھی لا اینڈ آرڈر کو سنبھالنے کی جگہ جان بچاتی ہوئی نظر آئی۔‘‘
تیجسوی یادو نے بہار کی این ڈی اے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’مہاچوپٹ راج کی اس سے بڑی تصویر کیا ہو سکتی ہے؟ یہ واقعہ واضح طور پر دکھا رہا ہے کہ بہار میں لا اینڈ آرڈر کس حد تک بدحال ہو چکا ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی-جے ڈی یو ’سی ایم چیئر‘ کے کھیل میں مصروف ہیں اور بہار میں روزانہ لوٹ، قتل جرائم اور عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مجرموں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ دن دہاڑے سر عام قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور قانون کا ذرا بھی خوف نہیں ہے۔‘‘
آر جے ڈی لیڈر نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’بالو-دارو میں مست اور ناکام این ڈی اے حکومت کی وجہ سے بہار کے عام لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ بہار میں این ڈی اے راج نہیں، مہاچوپٹ راج ہے۔ نریندر مودی 5 سال بعد انتخاب میں آ کر پھر جنگل راج کا بے سُرا راگ الاپیں گے۔‘‘ تیجسوی یادو نے پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ ’’اور ایک بات سر کاٹ کر گھومنے کا منظر ابھی حال ہی میں آئی پروپیگنڈہ فلم کا منظر تھا، بی جے پی حکومت اپنے پروپیگنڈہ کے لیے جو زہر سماج میں پھیلا رہی ہے وہ بھی دل دہلانے والا ہے۔ زہر کی کھیتی کا خمیازہ اب بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔