’پنجاب میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں، صرف تیل فراہمی کی فوری ضرورت‘، بھگونت مان کی مرکز سے اپیل

پی ایم مودی کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ ’’میں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کا فعال طریقے سے استعمال کریں۔

<div class="paragraphs"><p>بھگونت مان / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے حکومت ہند سے پٹرول، ڈیزل اور ڈی اے پی کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب 140 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی کٹائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی دستیابی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ قومی غذائی تحفظ کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔

پی ایم مودی کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے بھگونت مان نے کہا کہ ’’ورچوئل میٹنگ کے دوران میں نے پنجاب سے متعلق تمام اہم مسائل اٹھائے۔ میں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ سفارتی ذرائع کا فعال طور پر استعمال کریں تاکہ ملک کو کسی بھی قسم کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘ انھوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ گھبرائیں نہیں، کیونکہ حالات بہت خراب نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن کٹائی اور اناج کی ترسیل کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے مرکزی حکومت کی بروقت کارروائی انتہائی ضروری ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 181 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں اور 139 لاکھ میٹرک ٹن دھان فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔


عوام کو بھروسہ میں لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ اس وقت ریاست میں 12 سے 14 دنوں کا پٹرول و ڈیزل اور تقریباً 6 دنوں کا ایل پی جی اسٹاک موجود ہے، جو عام طور پر پورے سال برابر رہتا ہے۔ سپلائی مسلسل جاری ہے۔ ملک کے 41 ممالک کے ساتھ درآمد سے متعلق معاہدے ہیں اور قومی سطح پر 60 دنوں کا پٹرول-ڈیزل اور 30 دنوں کا ایل پی جی اسٹاک پہلے سے محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات تک ایل پی جی ریفل کے لیے 71,000 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے 69,000 کی ترسیل کی جا چکی ہے۔ ریاست میں کسی بھی قسم کے لاک ڈاؤن کا کوئی امکان نہیں ہے اور تمام کام معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ زراعت اور صنعت دونوں کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔