نئے مالی سال کے پہلے ہی دن شیئر بازار نے پکڑی رفتار، سرمایہ کاروں نے کی 10 لاکھ کروڑ روپے کی کمائی

یکم اپریل 2026 کو ہندوستانی شیئر بازار میں رونق دیکھنے کو ملی۔ لگاتار 2 دنوں کی گراوٹ کا سلسلہ توڑتے ہوئے سنسیکس اور نفٹی مضبوط سبقت کے ساتھ بند ہوئے، جو کہ عالمی رجحانات کو ظاہر کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>شیئر بازار، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مالی سال 2027 شروع ہو چکا ہے اور سال کے پہلے ہی دن شیئر بازار میں زبردست تیزی دیکھنے کو ملی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں شیئر بازار نے سرمایہ کاروں کو خسارے میں ڈال دیا تھا۔ اگر آج، یعنی پہلے دن کی بات کریں تو ہندوستانی شیئر بازار نے مسلسل 2 دنوں کی گراوٹ کا سلسلہ توڑ دیا اور سنسیکس و نفٹی 50 عالمی رجحانات کی عکاسی کرتے ہوئے مضبوط سبقت کے ساتھ بند ہوئے۔

سنسیکس 1,187 پوائنٹس یعنی 1.65 فیصد بڑھ کر 73,134.32 پر بند ہوا، جبکہ این ایس ای کا نفٹی 50 میں 348 پوائنٹس یعنی 1.56 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 22,679.40 پر بند ہوا۔ بی ایس ای پر مڈ اور اسمال کیپ انڈیکس میں 3 فیصد تک کی تیزی دیکھی گئی۔ سیکٹورل انڈیکس میں نفٹی پی ایس یو بینک اور میڈیا انڈیکس میں 3.7 فیصد کا اُچھال آیا، جبکہ میٹل، آئی ٹی اور آٹو انڈیکس میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔


نفٹی بینک انڈیکس میں 2.33 فیصد کی تیزی آئی۔ سرمایہ کاروں نے ایک ہی سیشن میں 10 لاکھ کروڑ روپے کمائے۔ دراصل بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن گزشتہ سیشن کے 412 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 422 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے ممکنہ خاتمہ کے اشاروں سے پرجوش ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن 2 سے 3 ہفتوں کے اندر ایران پر اپنے فوجی حملے ختم کر سکتا ہے۔ اس درمیان عالمی شیئر بازار کے مثبت رجحانات کا اثر گھریلو بازار پر بھی پڑا۔ ایشیائی بازاروں میں کوریا کا کوسپی تقریباً 8 فیصد بڑھا، جبکہ جاپان کا نکی 4.61 فیصد اوپر گیا۔ اس کی وجہ جغرافیائی سیاسی خطرات میں کمی اور مارچ کے مائیکرو اکنامک اعداد و شمار کا توقع سے بہتر ہونا ہے۔ یورپ میں برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای، جرمنی کا ڈیکس اور فرانس کا سی اے سی 40 اس سیشن کے دوران 2 فیصد اوپر گئے۔ رات بھر میں نیسڈیک 4 فیصد بڑھا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ امریکہ-ایران تنازعہ کے خاتمہ کی امید ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔