’ملک کی صورتحال مزید سنگین ہوگی‘، سونا اور چاندی کی کسٹم ڈیوٹی میں اضافے پر کانگریس رہنما اجے کمار للو کا انتباہ

اجے کمار للو نے کہا کہ ’’5 ریاستوں کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ اب مرکزی حکومت نے معیشت کو ایسی حالت میں لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ آہستہ آہستہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔‘‘

اجے کمار للو، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سونا اور چاندی سمیت دیگر قیمتی دھاتوں پر کسٹم ڈیوٹی بڑھائے جانے پر کانگریس لیڈر اجے کمار للو نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے اور حکومت ایک روز لاک ڈاؤن بھی لگا سکتی ہے۔ اجے کمار للو نے ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ابھی شروعات ہے۔ 5 ریاستوں کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ اب مرکزی حکومت نے معیشت کو ایسی حالت میں لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ آہستہ آہستہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اب کیا کریں۔‘‘

وزیر اعظم مودی سے اپیل کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’یہ ایک بڑا اشارہ ہے، جو کورونا کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت کسی بھی روز لاک ڈاؤن لگا دے۔ کہیں نہ کہیں ملک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔‘‘ بی جے پی کو جواب دیتے ہوئے اجے کمار للو نے کہا کہ ’’بی جے پی پہلے کہتی تھی کہ ملک میں کسی بھی چیز کا بحران نہیں ہے۔ ہم چوتھی بڑی معیشت کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم وشو گرو ہیں۔ لیکن کیا وہ گرو اس لیے بنے کہ ملک کی حالت کو گرانے کا کام کریں اور لوگوں کو ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے کہہ دیں؟‘‘


نیٹ پیپر لیک معاملے پر کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’7 سال میں 70 پیپر لیک ہوئے ہیں۔ یہ محض بدقسمتی نہیں ہے، کہیں نہ کہیں ملک کا پورا نظام منہدم ہو چکا ہے۔ حکومت طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ اور ان کی زندگی کو تاریکی کی طرف لے جانے کا کام کر رہی ہے۔‘‘

اجے کمار للو کے مطابق راہل گاندھی مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ تعلیم کو تجارت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ آج تعلیم کو بازاروں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ 2021 سے لے کر 2026 تک، بی جے پی کی حکومت والی کوئی ایسی ریاست نہیں ہے جہاں پیپر لیک نہ ہوئے ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان کو اخلاقی ذمہ داری لینی چاہیے اور اپنا استعفیٰ دینا چاہیے۔ صرف تحقیقات کرانے اور چھوٹے لوگوں کو جیل بھیجنے سے کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ بڑے کھلاڑی اب بھی باہر ہیں اور انہیں وزیر کی سرپرستی حاصل ہے۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔