دہلی وقف بورڈ بھرتی گھوٹالہ معاملے میں راؤز ایونیو کورٹ نے فیصلہ ملتوی کر دیا

امانت اللہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین رہتے ہوئے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں اور رشتہ داروں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا

<div class="paragraphs"><p>راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i

دہلی وقف بورڈ میں ہوئی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے معاملے میں راؤز ایونیو کورٹ نے اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں حکم نامہ ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہو سکا ہے، جس کی وجہ سے فی الحال فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔ اب اس معاملے میں 28 نومبر کو راؤز ایونیو کورٹ فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان اور دہلی وقف بورڈ کے اس وقت کے سی ای او محبوب عالم سمیت 11 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔

دراصل امانت اللہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین رہتے ہوئے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں اور رشتہ داروں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا۔ سی بی آئی کے مطابق ان بے ضابطہ تقرریوں اور املاک کے انتظام میں گڑبڑی سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں روپے کے ہیر پھیر کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ عدالت اس معاملے میں ملزمان کے خلاف مجرمانہ سازش (آئی پی سی کی دفعہ 120 بی) اور انسداد بدعنوانی قانون کے تحت الزامات طے کر چکی ہے۔ اب صرف فیصلہ آنا باقی ہے۔


واضح رہے کہ اس معاملے میں امانت اللہ خان کلیدی ملزم ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وقف بورڈ کے چیئرمین رہتے ہوئے محبوب عالم کو قواعد کو بالائے طاق رکھ کر وقف بورڈ کا سی ای او مقرر کیا تھا۔ 2016 میں امانت اللہ خان دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین بنے تھے۔ اس کے علاوہ ان پر بورڈ میں مختلف کنٹریکٹ اور یومیہ اجرت کی بنیاد پر اپنے جاننے والوں کو ملازمتیں دینے کا بھی الزام ہے۔ ان بھرتیوں کے لیے نہ تو کوئی اشتہار جاری کیا گیا اور نہ ہی قواعد کے مطابق انتخابی عمل اختیار کیا گیا۔

دہلی کے اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر نے متعدد شکایات کے بعد 7 اکتوبر 2016 کو اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور وقف بورڈ کو ہی تحلیل کر دیا تھا۔ دہلی حکومت کے محکمہ محصولات کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی تقرریوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد دہلی حکومت کے محکمہ نگرانی کی شکایت کی بنیاد پر اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔ سی بی آئی نے 23 نومبر 2016 کو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی تھی اور 31 اگست 2022 کو خصوصی عدالت میں 11 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔