’پکچر ابھی باقی ہے‘، راگھو چڈھا نے پنجاب کے مسائل پر ویڈیو جاری کر عآپ لیڈران کو دیا جواب
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر راگھو چڈھا نے لکھا کہ ’’پنجاب میرے لیے صرف بحث کا موضوع نہیں ہے۔ یہ میرا گھر ہے، میرا فرض ہے، میری مٹی ہے اور میری روح ہے۔‘‘

عام آدی پارٹی سے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا اور ان کی پارٹی کے درمیان اب اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈران کی طرف سے راگھو چڈھا کے خلاف پنجاب کے مسائل نہ اٹھانے کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کے درمیان پنجاب کے مسائل پر راگھو چڈھا نے ویڈیو جاری کر جواب دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو پوسٹ کر لکھا کہ ’’میرے ان ساتھیوں کے لیے جنہیں یہ کہتے ہوئے ویڈیو جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ راگھو چڈھا پارلیمنٹ میں پنجاب کے مسائل کو اٹھانے میں ناکام رہا۔ یہاں ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے...پکچر ابھی باقی ہے۔‘‘ انہوں نے آگے لکھا کہ ’’پنجاب میرے لیے صرف بحث کا موضوع نہیں ہے۔ یہ میرا گھر ہے، میرا فرض ہے، میری مٹی ہے اور میری روح ہے۔‘‘
راگھو چڈھا نے ویڈیو میں ان تمام مسائل کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے پارلیمنٹ میں اٹھائے ہیں۔ ان میں کرتار پور صاحب اور ننکانہ صاحب کے لیے کوریڈور، پنجاب کے کسانوں کے لیے ایم ایس پی کا مطالبہ، پنجاب کے لیے کینسر ٹرین اور دہلی سمیت شمالی ہندوستان میں فضائی آلودگی جیسے مسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں راگھو چڈھا نے ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کا مطالبہ، پنجاب میں پانی کی قلت، کسانوں کے مختلف مطالبات، پنجاب میں زمینی پانی کی گرتی ہوئی سطح، شہید بھگت سنگھ کے لیے ’بھارت رتن‘ کا مطالبہ، دریاؤں کی بحالی اور پانی تک پنجاب کی رسائی، اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے شاہی تخت کی واپسی جیسے مسائل کا بھی ذکر کیا ہے۔
راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے پنجاب میں انٹرنیشنل پروازوں، پنجاب کے لیے فنڈ جاری کرنے کا معاملہ اور آنند پور صاحب کو ہیریٹیج سٹی بنانے کے مطالبات جیسے مسائل کا ذکر ویڈیو میں کیا ہے۔ ساتھ ہی پنجاب کی ترقی کے لیے مرکز سے امداد کی اپیل کی ہے۔ عام آدمی پارٹی (عآپ) نے ہفتہ کے روز پارلیمنٹ میں پنجاب سے جڑے اہم مسائل کو اٹھانے میں مبینہ طور پر ناکام رہنے پر راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ’غیر فعالیت‘ پارٹی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔