مکتب خمینیؒ کے شاگرد قاسم سلیمانی کی شخصیت آفاقی ہو گئی: ڈاکٹر فرید الدین

ایران کلچر ہاؤس میں ’استقامت کی راہ میں: اولاد فاطمہ سے فرزند خمینیؒ تک‘ عنوان سے عظیم الشان بزم مقاومت کا انعقاد

<div class="paragraphs"><p>تصویر نواب اختر</p></div>

تصویر نواب اختر

user

نواب علی اختر

نئی دہلی، جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ زہراؑ کی ولادت باسعادت اور بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کے روز پیدائش کے موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فاتح جنرل قاسم سلیمانی کی یاد میں یہاں ایران کلچر ہاوس میں ’استقامت کی راہ میں: اولاد فاطمہ سے فرزند خمینیؒ تک‘ کے عنوان سے عظیم الشان بزم مقاومت کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں علماء کرام نے امام خمینیؒ کی مثالی شخصیت اور ان کی رہنمائی میں ایرانی قوم کی جدوجہد کو سلام کرتے ہوئے موجودہ وقت کے ایران کو عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل قرار دیا۔

بزم کا آغاز قاری محمد یاسین نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور استقبالیہ کلمات کلچرل کونسلر ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر نے ادا کئے۔ بعد ازاں معروف شعرائے کرام نے بارگاہ ممدوحین میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں مردو خواتین کے ساتھ طلباء موجود تھے۔

کلچرل کونسلر ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج حضرت فاطمہ زہرا کا روز ولادت ہے اور اس سلسلے میں یہ بزم سجائی گئی ہے، آپ کی شان میں سورہ کوثر نازل ہوا اور اللہ نے بی بی زہرا کے حوالے سے پیغمبر اسلام کو جو نسل کثیر عطا کی اس کے جو مصادیق ہیں ان میں سے ایک مصداق بارض ہے وہ امام خمینی کی ذات گرامی ہے جو آپ کی ہی نسل سے معاصر عہد میں ایک انتہائی غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے انقلاب اسلامی کی شکل میں ایک ایسا غیر معمولی کارنامہ انجام دیا کہ آج بھی دنیا حیران ہے کہ 4 دہائی گزر جانے کے بعد بھی انقلاب اسلامی کو متاثر کرنے کے لیے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بعد بھی ناکام رہیں۔ انہی امامؒ کے نام پر بھی یہ بزم سجائی گئی ہے۔


بانی انقلاب کی تحریک اور نظریئے کی توضیح کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید نے کہا کہ انقلاب اسلامی سے 15 برس قبل جب امام خمینیؒ کو ایران کی فاسد پہلوی حکومت کے ذریعہ بار بار گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جاتا تھا، اس وقت امام خمینیؒ سے پوچھا گیا کہ آپ کس کے بھروسے کھڑے ہو رہے ہیں، آپ کے سپاہی کہاں ہیں اور آپ کے لوگ کون ہیں تو امام خمینی نے جواب دیا تھا کہ میرے لشکری ابھی گہوارے میں اور ماؤں کی آغوش میں ہیں، وہ جب جوان ہوں گے تو ہمارے لشکر کے لئے کام کریں گے۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج وہی نسل بلکہ ان کے بچے امام کے نظریئے اور ان کی تحریک کو قائم و دائم رکھنے میں ایک لمحہ بھی کوتاہی نہیں برت رہے ہیں۔ آج انقلاب جس طرح پروان چڑھا وہ انہیں سپاہیوں اور لشکریوں کا نتیجہ ہے جس کو امام نے آج سے تقریباً 55 برس پہلے اپنا لشکری اور حامی بتایا تھا۔

ایران کے کلچرل کونسلر نے کہا کہ امام خمینیؒ کے نظریہ استقامت، مقاومت اور مزاحمت کے مکتب کے شاگرد شہید قاسم سلیمانی ہیں جن کی قدر و منزلت کی آج دنیا بھی معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے لے کر یونان تک دنیا میں جہاں بھی تمدن اور سماجیت کی تاریخ ہے اس میں کہیں بھی جب مدینہ فاضلہ کی تاریخ کی بات ہوتی ہے تو عام طور پر امیر شہر یا اس کے پاسدار اور محافظ پر توجہ زیادہ ہوتی ہے اور اچھا پاسدار شہر وہ ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ دشمنوں پر بہت سخت گیر، بیباک اور شجاع ہو بلکہ اس کے اندر حسن تدبیر، رحم دلی پائی جاتی ہو۔ جیسا کہ قرآنی اصطلاح میں وہ دشمن کے تئیں بہت سخت گیر ہوتے ہیں مگر اندر سے وہ رحم دل اور بہت زیادہ مہربان مزاج کے ہوتے ہیں اور جب محافظ ملک یا محافظ شہر میں یہ دونوں صفات ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو وہ قاسم سلیمانی بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید سلیمانی بہت زیادہ سادہ مزاج اور سب کے درمیان گھل مل کر رہتے تھے، جس کی وجہ سے تشخیص مشکل ہوتی تھی کہ وہ دنیا کے ایک اہم ملک کی عظیم فوج کے سربراہ ہیں۔ فرید الدین عصر نے کہا کہ شاید اسی خصوصیت کا نتیجہ تھا کہ انہیں تاریخ ساز مقبولیت کے ساتھ عوام کی محبتیں ملیں اور انہیں زیادہ عظمتیں میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی اعلان ہو جاتا تھا کہ آج جنرل خود لڑنے کے لئے محاذ پر آنے والے ہیں تو دشمن کے لئے یہ خود بڑی خبر ہوتی تھی اور وہ پیچھے ہٹتا نظر آتا تھا کہ آج فوج کے چیف قیادت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فرید نے کہا کہ قاسم سلیمانی کو ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید کیا گیا مگر اس دہشت گردی کا شکار ہونے سے ان کی شخصیت ختم نہیں ہوئی بلکہ آفاقی ہو گئی اور ایک نظریئے کے طور پر ابھری جو آج ایک مکتب فکر کے طور پر جانی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے دہشت گردانہ حملے اکثر نظریئے اور شخصیت کو نشانہ بنا کر کئے جاتے ہیں، کسی شخص کو نہیں شخصیت کو مارا جاتا ہے اور یہ زیادہ خطرناک اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔

شیعہ جامع مسجد کشمیری گیٹ کے امام جمعہ مولانا محسن تقوی نے تینوں موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے نامساعد حالات میں دین اسلام کے لئے غیر معمولی انقلابی خدمات کو حضرت فاطمہ زہرا کی سیرت کا خصوصی امتیاز، امام خمینیؒ اور شہید قاسم سلیمانی کی زندگی کو اسی کا اتباع قرار دیا۔ ڈاکٹر عزیز مہدی، اصغر الحیدری، مجاہدی نے اردو فارسی میں موضوع سے متعلق اشعار پڑھے جبکہ مہدی باقر خان نے اپنے اردو فارسی اشعار کے ساتھ ترجمہ و نظامت کے فرائض انجام دئے۔ میلاد مسعود میں معزز شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں عقیدتمندوں نے شرکت کی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔