وادی کشمیر صرف خوبصورت نہیں بلکہ ایک محفوظ جگہ بھی ہے

’کشمیر خزاں تعارف ٹور‘ کی ابتدائی تقریب 25 اکتوبر کو شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع ایس کے آئی سی سی جبکہ اختتام تقریب 27 اکتوبر کو عالمی شہرت یافتہ سکی ریزارٹ گلمرگ میں منعقد ہوئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

گلمرگ :وادی کشمیر صرف خوبصورت نہیں بلکہ ایک محفوظ جگہ بھی ہے۔ جہاں یہ جگہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے، وہیں یہاں کے لوگوں نے اسے صاف و ستھرا رکھا ہے۔ مقامی لوگ نہ صرف اپنی ثقافت سے محبت کرتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر اپناتے ہیں۔ یہ تاثرات وادی میں تین روز تک جاری رہنے والے ’کشمیر خزاں تعارف ٹور‘ کے مندوبین کے ہیں۔ اس ’سیاحتی ٹور‘ کا اہتمام کرنے والے ریاستی حکومت کے محکمہ سیاحتی کا کہنا ہے کہ اس ٹور کے انعقاد کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثر کو غلط ثابت کرنا تھا۔ محکمہ سیاحت کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 70 مندوبین بشمول معروف ٹریول ایجنٹس و ٹور آپریٹرس، فلم میکرس اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد اس ٹور کا حصہ بنے اور کشمیر کی اصل حقیقت جان کر بے حد متاثر ہوئے۔ ’کشمیر خزاں تعارف ٹور‘ کی ابتدائی تقریب 25 اکتوبر کو شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع ایس کے آئی سی سی جبکہ اختتام تقریب 27 اکتوبر کو عالمی شہرت یافتہ سکی ریزارٹ گلمرگ میں منعقد ہوئی۔

اختتامی تقریب کے موقع پر مندوبین نے میڈیا سے بات چیت کی اور کہا کہ کشمیر صرف خوبصورت نہیں بلکہ ایک محفوظ جگہ بھی ہے۔ ایک خاتون مندوب کا کہنا تھا ’میں اکیلے سفر کرنا پسند کرتی ہوں۔ تین ہفتے قبل جب میں نے اپنے گھروالوں کو بتایا کہ مجھے کشمیر جانا ہے تو میرے گھر والوں نے مجھے اجازت نہیں دی۔ کشمیر کا نام سنتے ہی میں نے انہیں سہما ہوا پایا۔ ان کو میں نے کبھی اتنا فکرمند اور تشویش میں نہیں دیکھا۔ لیکن میں دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ کشمیر وہ نہیں ہے جس کو آپ میڈیا میں دیکھتے ہیں۔ یہ جگہ انتہائی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ محفوظ بھی ہے‘۔ ان کے ساتھ بیٹھی ایک اور خاتون مندوب نے بتایا ’آج کے زمانے کے سیاح صرف خوبصورتی کی وجہ سے کسی جگہ پر نہیں جاتے ہیں۔ ہم دنیا بھر میں گھومے ہیں۔ بھارت کی ہر ایک جگہ کا دورہ کرچکے ہیں۔ ہمیں کشمیر میں ایک چیز بہت پسند آئی۔ کشمیر میں ہمیں کہیں گندگی نظر نہیں آئی۔ یہ بہت ہی اچھی چیز ہے جس کو اجاگر کرنی کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں دوسری چیز ہمیں یہ پسند آئی کہ یہاں کے لوگوں کو اپنی ثقافت سے محبت ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی ثقافت کے مطابق اپنے کپڑے پہنتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں اجاگر کرنے والی چیزیں ہیں۔ یہ چیزیں دوسری جگہوں پر نظر نہیں آتیں‘۔ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مندوب نے کہا کہ کشمیر خاتون سیاحوں کے لئے بالکل محفوظ جگہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’کشمیر زمین پر جنت ہے ۔ ہمارے سنیماٹوگرافرس ، فوٹوگرافرس، ڈائریکٹرس ، کافی لوگ یہاں آتے ہیں۔ گذشتہ ماہ کلیرس کی ٹیم یہاں آئی تھی۔ اس نے یہاں ’’کون ہے‘‘ شیو کے ایک حصے کی عکس بندی کی۔ میں خود جاکر اپنی انڈسٹری میں کشمیر کی سیاحت کے فروغ کے لئے کام کروں گی۔ یہ جنت ہے۔ ہمیں سوئٹزرلینڈ جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہاں سب کچھ ہے۔ یہ بہت ہی محفوظ جگہ ہے۔ یہ خواتین سیاح کے لئے سب سے محفوظ جگہ ہے‘۔ ٹور ٹریول انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک مندوب نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیری بھی بہت اچھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ملک میں ایک ماحول بنا تھا کہ کشمیر جانا محفوظ نہیں ہے۔ ہم سری نگر، وہاں سے پہلگام اور گلمرگ گئے۔ اس دوران لوگوں سے بات چیت کی۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ مکس ہوئے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر سیاحوں کے لئے بالکل محفوظ جگہ ہے‘۔

پہلی بار کشمیر آنے والی ایک مندوب نے کہا ’مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ مجھے کشمیر آنے میں اتنے سال کیوں لگے۔ میں نے پوری دنیا دیکھی ہے۔ میں دنیا میں جس جگہ کو کھوج رہی تھی، وہ تو ہمارے ہی ملک میں تھی‘۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی ایڈیٹر چترا دیپا نے کہا کہ کشمیر کا موسم خزاں انتہائی خوبصورت ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم نے سری نگر میں چنار کے درختوں سے گرنے والے پتوں کا منظر دیکھا۔ کشمیر کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے‘۔ ناظم سیاحت کشمیر تصدق جیلانی نے کہا کہ اس ’ٹور‘ کا مقصد مہمانوں کو یہ بتانا تھا کہ کشمیر سیاحوں کے لئے کتنا محفوظ ہے۔ انہیں مقامی ثقافت، ورثہ اور صنعت و حرفت سے واقف کرانا تھا۔ انہوں نے بتایا ’ہمارے پاس سیاحوں کو دینے کے لئے ہر ایک چیز ہے۔ لیکن کشمیر کے حوالے سے سیاحوں میں منفی تاثر ہے جس کو غلط ثابت کرنے کی ضرورت ہے‘۔

محکمہ سیاحت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’کشمیر خزاں تعارف ٹور‘ کے مندوبین نے پہلے دن یعنی 25 اکتوبر کو مغل باغات بشمول پری محل اور چشمہ شاہی کا دورہ کیا۔ دوسرے دن وہ پہلگام گئے جہاں انہوں نے آڑو، بے تاب ویلی اور پہلگام گالف کورس کی خوبصورتی کا مشاہدہ کیا۔ تیسرے اور آخری دن مندوبین گلمرگ آئے اور قدرتی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنے کے علاوہ گنڈولہ سواری کا بھی مزہ لیا۔ گلمرگ میں مندوبین نے روایتی کشمیری پکوان کا مزہ لیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔