دہلی جم خانہ کلب اور مرکزی حکومت کے درمیان جاری تنازعہ پر ہائی کورٹ کل سماعت کرے گی
لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل ڈی او) نے 22 مئی کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ صفدرجنگ روڈ پر واقع کلب کی زمین حکومت اب واپس لینا چاہتی ہے۔

ملک کے سب سے پرانے اور باوقار کلبوں میں شمار ہونے والے ’دہلی جم خانہ کلب‘ اور مرکزی حکومت کے درمیان اب براہ راست قانونی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے کلب کو لوٹینس دہلی میں واقع اس کی 27.3 ایکڑ کی بے حد قیمتی زمین کو 5 جون تک خالی کرنے کا سخت حکم دیا ہے۔ اس بے دخلی نوٹس کے خلاف کلب نے براہ راست دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے جسٹس اونیش کی عدالت میں اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کی ہے۔ عدالت نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کے لیے منگل (26 مئی) کی تاریخ طے کی ہے۔ واضح رہے کہ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل ڈی او) نے 22 مئی کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ صفدرجنگ روڈ پر واقع کلب کی زمین حکومت اب واپس لینا چاہتی ہے۔ یہ علاقہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور کئی انتہائی محفوظ سرکاری اداروں کے بے حد قریب ہے۔ حکومت نے حکم نامے میں واضح کیا کہ اب اس زمین کو قومی سلامتی اور دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور حکومت کی اہم ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
حکومت کے اس بڑے فیصلے کے خلاف کلب کے رکن وجے کھرانہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ کلب کا موقف ہے کہ اتنے بڑے اور تاریخی ادارے کو اچانک خالی کرنے کا حکم دینا پوری طرح غلط ہے۔ غور طلب ہے کہ دہلی جم خانہ کلب صرف ایک عام کلب نہیں ہے، بلکہ اسے ملک کے سیاسی، بیوروکریسی اور کاروباری حلقوں کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دہلی کے جم خانہ کلب کو پانچ جون تک خالی کرنے کا حکم
قابل ذکر ہے کہ یہ ہائی پروفائل معاملہ اب براہ راست ہائی کورٹ میں پہنچ چکا ہے۔ اب سب کی نظریں منگل (26 مئی) کو ہونے والی سماعت پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اسی سماعت میں یہ طے ہوگا کہ دہلی جم خانہ کلب کو عدالت سے کوئی فوری راحت ملے گی یا پھر حکومت کا بے دخلی کا حکم برقرار رہے گا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
