داؤد ابراہیم کی موت! مرکزی حکومت وضاحت کرے: کانگریس
داؤد ابراہیم کی کورونا کی وجہ سے موت کی خبریں گزشتہ دو دنوں سے ہندوستانی میڈیامیں آرہی ہیں، لیکن ہماری مرکزی حکومت نے اس بارے میں خاموشی اختیارکررکھی ہے جس کی وجہ سے شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں

ممبئی: انڈر ورلڈڈان داؤ د ابراہیم کی کورونا کی وجہ سے موت کی خبریں گزشتہ دو دنوں سے ہندوستانی میڈیامیں آرہی ہیں، لیکن ہماری مرکزی حکومت نے اس بارے میں خاموشی اختیارکررکھی ہے جس کی وجہ سے شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں۔ داؤد ابراہیم کی واقعتا موت ہوچکی ہے یا پھروہ زندہ ہے؟ مرکزی حکومت یہ ایک بار ہی طئے کرکے ملک کی عوام کو بتائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔
سچن ساونت نے مزید کہا کہ کرونا سے متاثر ہونے کے بعد داؤد ابراہیم کو پاکستان کے کراچی میں ایک فوجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعداس کی موت ہونے کی خبریں ہندوستان میں پرنٹ والکٹرانک میڈیا میں آنے لگیں۔ اس بارے میں حقیقت کیا ہے؟ مرکزی حکومت کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔ ساونت نے کہا کہ داؤد ابراہیم بھارت کا دشمن ہے اور وہ بھارت کے لئے انتہائی مطلوب ہے۔ لیکن 2014 کے بعد سے داؤد ابراہیم کی موت کی خبریں وقتا فوقتا پھیلائی جاتی رہی ہیں اور اب تک 6 بار مرکر زندہ ہوچکا ہے۔
مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ہندوستانی میڈیا میں اس طرح کی خبریں آنے لگی تھیں کہ اب داؤد کی خیر نہیں ہے، مودی حکومت کی وجہ سے پاکستان گھبراگیا ہے اور داؤد بھی خوف زدہ ہوگیا ہے، مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بری طرح خوف زدہ داؤد نے آئی ایس آئی کو سیکوریٹی بڑھانے کے لیے فون کیا ہے۔حیرت کی بات یہ کہ اس طرح کی خبریں دینے والے چینلوں کے ذرائع براہ راست آئی ایس آئی تک پہونچ گئے تھے،جس کا یہ چینلس دعویٰ بھی کررہے تھے۔ ساونت نے کہا کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں دیئے گئے اپنے جواب میں کہا تھا کہ اسے نہیں معلوم کہ داؤد ابراہیم کہاں ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ان چینلوں کے سربراہان کو راء کاایجنٹ بنادیا جائے۔ اس سے ملک کا فائدہ ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
