’ملک کو امریکی کالونی بنا دیا‘، ایل پی جی بحران پر اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت کو بنایا ہدف تنقید
اروند کیجریوال کے مطابق گزشتہ 75 سالوں سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہی ’غیر وابستگی‘ کو وزیر اعظم مودی نے کچھ ہی دنوں میں ختم کر دیا
ملک میں ایل پی جی گیس کی کمی کی خبروں اور بڑھتی قیمتوں کو لے کر عام آدم پارٹی (عآپ) کے نیشنل کنویز اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کیجریوال نے کہا کہ آج ملک سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ ملک میں ایل پی جی کی بھاری قلت پیدا ہو گئی ہے، اس کی اصل وجہ ملک کی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی ہے۔
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ ملک میں گیس کی پیداوار تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے، جبکہ کھپت کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے آتا ہے، جس کے بند ہونے کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی صنعت پر پڑ رہا ہے۔ ریسٹورنٹ گیس کا زیادہ اسٹوک نہیں رکھ سکتے اور انہیں روزانہ کی سپلائی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
کیجریوال نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ممبئی میں تقریباً 20 فیصد ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہو چکے ہیں، جبکہ تمل ناڈو میں ہزاروں ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ اسی طرح پنجاب اور این سی آر میں بھی ہزاروں ہوٹل کے بند ہونے کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ کیجریوال کے مطابق گجرات کے موربی میں 650 صنعتوں میں سے تقریباً 170 بند ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حال ہی میں حکومت نے گھریلو اور کمرشیل گیس کی قیمتوں میں اضافے کیے ہیں، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔
خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ ہندوستانی کی روایتی غیر وابستہ پالیسی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی صورتحال میں کسی ایک ملک کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا لیکن وزیر اعظم مودی امریکہ اور اسرائیل کے حق میں نظر آئے جس کی وجہ سے ایران جیسے پرانے دوست ناراض ہو گئے۔ سابق وزیر اعلیٰ دہلی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی امریکہ کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کو کسی طرح کا خوف ہے تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ آزادی کے وقت ہندوستان معاشی طور پر کمزور تھا لیکن دنیا میں اس کی عزت تھی۔ انہوں نے 1971 کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی دھمکیوں کے باوجود اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ملک کے مفاد میں فیصلے لیے تھے۔ جبکہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی سے ملک کے وقار کو نقصان پہنچا ہے۔ کیجریوال کے مطابق گزشتہ 75 سالوں سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہی ’غیر وابستہ پالیسی‘ کو وزیر اعظم مودی نے کچھ ہی دنوں میں ختم کر دیا۔
عآپ کنویز کا کہنا ہے کہ ’’موجودہ حکومت نے ملک کو امریکہ کی ایک کالونی بنا دیا ہے۔ انگریزوں نے اس لیے حکومت کی کیونکہ ہم کمزور تھے۔ آج امریکہ نے ہمارے ملک کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت امریکہ کے حکم پر فیصلہ لیتی ہے۔ امریکہ کے کہنے پر ہی روس سے تیل خریدنا بند کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ملک کو 8 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا تھا۔‘‘ کیجریوال نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سمجھ نہیں آتا ہے آخر کیا وجہ ہے جو امریکہ کا ادنیٰ افسر بھی ہماری موجودہ حکومت کو حکم دے دیتا ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔