لوک سبھا میں آج 12 بجے پیش ہوگا پیپر لیک سے متعلق بل، 2 بجے شروع ہو سکتی ہے بل پر بحث، ہنگامہ کے آثار

اکھلیش یادو نے کہا کہ طلبا و نوجوانوں پر حکومت کیس کر رہی ہے اور ان پر مقدمے کر رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ذہانت کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے، حکومت کے لیے ذہانت ہی چیلنج بن گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پارلیمنٹ کی نئی عمارت / آئی اے این ایس</p></div>
i

پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگی کے خلاف طلبا کے احتجاج نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو تو عہدہ سے دستبردار کر ہی دیا ہے، اب حکومت پیپر لیک کو روکنے کے لیے کچھ اہم اقدام کی کوششیں کر رہی ہے۔ آج لوک سبھا میں تقریباً 12 بجے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ ’دی پبلک اگزامنیشن پریونشن آف انفیئر مینس امینڈمنٹ بل، 2026‘ پیش کریں گے۔ اس بل میں پیپر لیک کے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا التزام ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ دوپہر 2 بجے سے اس بل پر بحث شروع ہو سکتی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’ہم سبھی (انڈیا بلاک کی پارٹیاں) بیٹھ کر بات کریں گے کہ کیا طے کرنا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’طلبا و نوجوانوں پر حکومت کیس کر رہی ہے اور ان پر مقدمے کر رہی ہے۔ ذہانت کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے، اب حکومت کے لیے ذہانت ہی چیلنج بن گئی ہے۔‘‘


کبھی مودی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش کا بھی پیپر لیک سے متعلق بل پر رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں اس پر بحث کرنی ہے اور ہم شروع سے ہی بحث کرنا چاہتے تھے۔ اپوزیشن بحث کرنے سے انکار کر رہا تھا، لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس میں تعاون کریں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی اور حکومت نے جو قدم اٹھائے ہیں، جس طرح طلبا کی آواز سنی گئی ہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ استقبال کے لائق قدم ہے۔ میں چاہوں گی کہ ایک اچھی بحث ہو۔‘‘

اس درمیان اپوزیشن پارٹیاں پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ کئی اپوزیشن پارٹیاں تحریک التوا تیار کر رہی ہیں، جن میں 20 جولائی کو دہلی میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد اور پولیس کی جانب سے ’مہلک ہتھیاروں کے استعمال‘ سے متعلق امت شاہ سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اپوزیشن ذرائع نے بتایا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، سی پی آئی (ایم) اور دیگر پارٹیاں اب اپنی توجہ مظاہرین نوجوانوں کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر مرکوز کرنے کی کوشش کریں گی۔


اتوار کے روز ہی اس بات کے اشارے مل گئے تھے کہ جاری مانسون اجلاس کے دوران امت شاہ نشانے پر لیے جائیں گے، کیونکہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر مظاہرین طلبا پر ’وحشیانہ حملے‘ کے لیے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے سے 2 روز قبل 25 جولائی کو امت شاہ کے نام لکھے گئے خط میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہمارے طلبا ایک منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کی بات سننے کے بجائے سیکورٹی فورسز نے مہلک ہتھیاروں اور آنسو گیس سمیت بے دریغ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔‘‘

راہل گاندھی اپنے خط میں آگے لکھتے ہیں کہ ’’سینکڑوں لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ طالبات کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے بدسلوکی کی ہے، جس میں قصداً ان کے پرائیویٹ پارٹس کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز بات مہلک پیلٹ گنوں کا استعمال رہا ہے۔‘‘ میڈیا اور سوشل میڈیا کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک صحافی سمیت کئی لوگوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا شاہ نے ذاتی طور پر پیلٹ گنوں کے استعمال اور مظاہرین پر حملہ کرنے کے لیے سادہ لباس میں اہلکاروں کی مبینہ تعیناتی کی منظوری دی تھی؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔