کشمیر میں بند کا 81واں دن، تاریخی جامع مسجد بارہویں جمعے کو بھی مقفل

وادی کشمیر میں جمعہ کے روز 81 ویں دن بھی جہاں معمولات زندگی متاثر رہے وہیں پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع 6 سو سالہ قدیم اور تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب مسلسل بارہویں ہفتے بھی خاموش رہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں جمعہ کے روز 81 ویں دن بھی جہاں معمولات زندگی متاثر رہے وہیں پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع 6 سو سالہ قدیم اور تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب مسلسل بارہویں ہفتے بھی خاموش رہے۔ بتادیں کہ مرکزی حکومت کے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو خصوصی اختیارات عطا کرنے والے آئینی دفعات کی منسوخی اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے اعلان کے خلاف وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا ایک سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

وادی میں ہڑتال کے بیچ جنوبی کشمیر میں غیر ریاستی شہریوں بالخصوص میوہ صنعت سے وابستہ بیوپاریوں اور ٹرک ڈرائیوروں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں تین ٹرک ڈرائیوروں اور ایک سیب بیوپاری سمیت پانچ غیر ریاستی افراد کی ہلاکت اور ایک کو زخمی کردینے کے واقعات سے پوری وادی کشمیر میں تشویش کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔

کشمیر میں بند کا 81واں دن، تاریخی جامع مسجد بارہویں جمعے کو بھی مقفل

سیب صنعت سے وابستہ افراد پر حملے کا تازہ واقعہ ضلع شوپیاں کے چترا گام علاقہ میں پیش آیا جہاں جمعرات کی شام نامعلوم اسلحہ برداروں نے فائرنگ کرکے دو ٹرک ڈرائیوروں کو ہلاک جبکہ تیسرے کو شدید زخمی کردیا۔ فائرنگ کے بعد اسلحہ برداروں نے دو ٹرکوں اور ایک ٹاٹا موبائل گاڑی کو آگ کے حوالے کیا۔ مہلوکین کا تعلق راجستھان سے ہے۔ زخمی ڈرائیور جس کی شناخت ہوشیار پور پنجاب کے رہنے والے جیون سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

جموں وکشمیر پولیس نے فائرنگ کے اس واقعہ کے لئے جنگجوئوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا: 'شوپیاں میں دہشت گردوں نے دو عام شہریوں کو ہلاک کردیا۔ ایک زخمی کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے'۔ قبل ازیں ضلع شوپیاں میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا سیب بیوپاری چرنجیت سنگھ اور راجستھان سے تعلق رکھنے والا ٹرک ڈرائیور شریف خان ہلاک جبکہ سنجیو نامی سیب بیوپاری زخمی ہوا تھا۔ ضلع پلوامہ میں ٹارگٹ فائرنگ کے ایک واقعہ میں چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والا اینٹ بٹھے کا مزدور سیٹھی کمار ساگر ہلاک ہوا تھا۔

کشمیر میں بند کا 81واں دن، تاریخی جامع مسجد بارہویں جمعے کو بھی مقفل

نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں غیر ریاستی افراد پر حملوں کے ان واقعات سے پوری وادی بالخصوص سیب کی پیدوار کے لئے مشہور جنوبی کشمیر میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے ایک میوہ باغ مالک نے بتایا کہ شوپیاں اور جنوبی کشمیر کے دیگر تین اضلاع میں میوہ صنعت لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس صنعت سے وابستہ غیر ریاستی بیوپاریوں یا ٹرک ڈرائیوروں پر حملوں سے اس صنعت اور اس سے وابستہ افراد کو ایک بہت بڑا دھچکہ لگتا ہے۔

سری نگر میں قائم فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلون کا کہنا ہے کہ سیب صنعت سے وابستہ افراد بشمول باغ مالکان کو معقول سیکورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق اب تک کسی بھی باغ مالک یا بیوپاری نے سیکورٹی طلب نہیں کی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز بھی وادی بھر میں بازار بند، تجارتی سرگرمیاں متاثر، پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب، براڈ بینڈ اور موبائل انٹرنیٹ معطل اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں فقود رہی جس سے زندگی کی رفتار مدھم رہ گئی۔

Published: 25 Oct 2019, 6:11 PM