شکر ہے رام نے کسی اقلیت کو نہیں مارا، ورنہ نسل پرستی کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستی کا بھی الزام لگتا: یوپی الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’حالیہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر لسٹ میں ایک عجیب و غریب نام ’رام نے شرما کو مارا‘ بھی ہے۔ کمپیوٹر یا سافٹ ویئر ذات پرست نہیں ہوتا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر نودیپ رنوا</p></div>
i

اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ووٹر لسٹ میں کئی مقامات پر ووٹرز، ان کے والد کے نام یا پتے سے متعلق خامیوں کے متعدد معاملے سامنے آئے۔ کئی سیاسی لیڈران نے الیکشن کمیشن پر سوالات بھی اٹھائے ہیں اور وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ لیڈران نے تو ان غلطیوں کے پیش نظر الیکشن کمیشن پر ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملے کافی وائرل ہوئے۔ اب اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او) نے اس معاملے میں صفائی پیش کی ہے۔

چیف الیکٹورل افسر نے 26 اکتوبر کو ان غلطیوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کو دوبارہ شیئر کیا، جس میں انہوں نے ایک ووٹر کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا۔ سنجے سنگھ نے ویڈیو پیغام جاری کر کہا کہ ’’میرا الیکشن کمیشن سے سنگین سوال ہے۔ ابھی ووٹر لسٹ میں نام آیا ہے ’رام نے یادو کو مارا‘۔ سوال ہے کہ ’رام‘ نے ’یادو‘ کو ہی کیوں مارا؟‘‘ انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ ’رام‘ نے کسی پاٹھک، رائے، مشرا، بشٹ وغیرہ کو کیوں نہیں مارا؟


اسی سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’حالیہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر لسٹ میں ایک عجیب و غریب نام ’رام نے شرما کو مارا‘ بھی ہے۔ کمپیوٹر یا سافٹ ویئر ذات پرست نہیں ہوتا۔ ہم اپنی جانب سے غلطی ہونے کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہماری خوش قسمتی ہے کہ غلطی ہونے کے باوجود ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا گیا۔ بھگوان کا یہ بھی شکر ہے کہ رام نے کسی اقلیتی طبقہ کے شخص کو نہیں مارا، ورنہ ذات پرست ہونے کے ساتھ ساتھ فرقہ پرست ہونے کا الزام بھی لگتا۔‘‘

الیکشن کمیشن نے الٰہ آباد-جھانسی گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات کی ووٹر لسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں روی شرما نامی ووٹر کے والد کے نام والے خانے میں ’رام نے شرما کو مارا‘ لکھا گیا ہے۔ یہ کوئی واحد معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ووٹر لسٹ میں اس طرح کی غلطیاں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔ ووٹر لسٹ میں ’رام نے یادو کو مارا‘، والد کا نام: ’مورکھ چند یادو‘ اور ’رام نے شرما کو مارا‘، والد کا نام: ’بی کام‘ جیسے اندراجات سامنے آئے۔ ان ناموں کو لے کر کئی سوالات اٹھائے گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔