تلنگانہ کے وزیر ٹرانسپورٹ کی کارپوریشن ملازمین سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل، 32 میں سے 29 مطالبات کو تسلیم کیا

وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ ’’میں اپنے آر ٹی سی کے ملازمین بھائیوں اور ان کے اہل خانہ کے ممبران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تنظیم کے تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے ہڑتال کو واپس لے لیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تلنگانہ کے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال شروع کر دی ہے۔ وہ تنخواہ پر نظر ثانی (پی آر سی)، نجکاری کو روکنے اور آر ٹی سی کو حکومت کے ساتھ ضم کرنے سمیت 32 مطالبات کو لے کر ہڑتال کر رہے ہیں۔ اسی درمیان تلنگانہ کے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (آر ٹی سی) ملازمین سے ہڑتال منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’’میں اپنے آر ٹی سی کے ملازمین بھائیوں اور ان کے اہل خانہ کے ممبران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تنظیم کے تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے ہڑتال کو واپس لے لیں۔‘‘

پونم پربھاکر نے مزید لکھا کہ ’’ہڑتال مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ حکومت نے 4 اعلیٰ افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو 4 ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم کمیٹیوں کے نام پر تاخیر کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے زیادہ تر مطالبات کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ریاستی وزیر کا کہنا ہے کہ ’’آر ٹی سی ملازمین کے ذریعہ اٹھائے گئے 32 مسائل میں سے حکومت کو 29 مسائل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان تمام کو فوری طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ آر ٹی سی کا انضمام اور تسلیم شدہ یونینوں کے انتخابات، یہ دونوں مطالبات اب بھی زیر التوا ہیں۔ ہم نے 4 افسران والی کمیٹی کو مطلع کیا ہے کہ ہم ان دونوں مطالبات پر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے تبادلہ خیال کریں گے۔ اگرچہ آر ٹی سی کے انضمام میں تاخیر ہو رہی ہو، لیکن ملازمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ مل رہا ہے۔‘‘ تسلیم شدہ یونینوں کے انتخابات کے متعلق کہا کہ لیڈران کے درمیان داخلی تنازعہ اور قیادت سے متعلق مسائل موجود ہیں۔


ریاستی وزیر کے مطابق حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد ہی ہم نے 2017 کے زیر التوا تنخواہ پر نظر ثانی (پی آر سی) جاری کر دیا۔ زیر التوا مہنگائی بھتہ بھی بغیر کسی بقایا کے ادار کر دیا۔ 2013 کے زیر التوا بانڈ کی بھی ادائیگی کر دی۔ پی ایف کے 1205 کروڑ روپے کے بقایا کو گھٹا کر 600 کروڑ روپے کر دیا۔ سی سی ایس کے 690 کروڑ روپے کے بقایا کو گھٹا کر 300 کروڑ روپے کر دیا۔ اس کے علاوہ ہم پی ایف اور سی سی اے کی مَد میں ہر ماہ 75 کروڑ روپے کی ادائیگی کر رہے ہیں۔ یہ یقینی بنانے کے لیے ملازمین پر کام کا کوئی بوجھ نہ پڑے، 4538 عہدوں پر جلد ہی بھرتی مکمل کر لی جائے گی۔ ہم نے 1134 کنٹریکٹ والی تقرریاں کی ہیں، جن کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ گزشتہ حکومت کے دوران مختلف وجوہات کے سبب سروس سے مستقل طور پر ہٹائے گئے لوگوں میں سے اب تک تقریباً 250 لوگوں کو واپس ملازمت پر رکھ لیا گیا ہے۔ ہم تمام مسائل کو حل کریں گے۔ آر ٹی سی ابھی ابھی پٹری پر لوٹ رہی ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت آر ٹی سی ملازمین کو اپنے دل کے بہت قریب مانتی ہے۔ ہم آپ کے مسائل کو حل کرنے کے تئیں مکمل طور سے پرعزم ہیں۔ عام لوگوں کے لیے پریشانی کھڑی نہ کریں۔ میں ایک طالب علم لیڈر رہا ہوں اور ملازمین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہوں گا۔ آر ٹی سی دیہی لوگوں کی لائف لائن ہے، اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عوام کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ آپ کے لیڈران کو احتجاج کرنے کا مکمل حق ہے۔ میں باقی تمام ملازمین سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آئیں اور یہ یقینی بنائیں کہ مسافرین کو کسی بھی طرح کی پریشانی نہ ہو۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔