ہر ایک حلقۂ اسمبلی میں کھولے جائیں گے ’تلنگانہ پبلک اسکول‘: وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ ’’تلنگانہ کا مستقبل کلاس رومز میں پوشیدہ ہے۔ تلنگانہ کا مستقبل شیشے سے سجائے گئے محلوں یا رنگین دیواروں میں نہیں ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بدھ کو رنگا ریڈی ضلع کے ارتلا میں جدید ترین سہولیات سے لیس ریاستی حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے ’تلنگانہ پبلک اسکول‘ (ٹی پی ایس) کا افتتاح کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر اسمبلی حلقے میں ایک ٹی پی ایس قائم کیا جائے گا۔ یہ اسکول طلبہ کو کھیلوں کی تربیت بھی دیں گے تاکہ مستقبل میں ہندوستان کے باصلاحیت کھلاڑی تیار ہو سکیں۔

اس موقع پر ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کا مستقبل کلاس رومز میں پوشیدہ ہے۔ تلنگانہ کا مستقبل شیشے سے سجائے گئے محلوں یا رنگین دیواروں میں نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے 15 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے ارتلا ٹی پی ایس کو تلنگانہ کے تمام سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے نام منسوب کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسی جذبے کو ریاست کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 27 لاکھ طلبہ کے فائدے کے لیے آگے بڑھایا جائے گا۔

ریونت ریڈی نے اسکول کے احاطے کا دورہ کر کے ڈیجیٹل کلاس رومز، لائبریری، لیبارٹریوں، جدید باورچی خانے اور ڈائننگ ہال کا معائنہ کیا اور طلبہ کے ساتھ ناشتہ بھی کیا اور طلبہ کے ساتھ فٹ بال بھی کھیلا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم ایجوکیشن کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر سرکاری اسکولوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ارتلا تلنگانہ پبلک اسکول میں 1814 طلبہ پہلے ہی داخلہ لے چکے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ داخلے کے لیے سخت مقابلے کو دیکھتے ہوئے ایک سرکاری اسکول میں ’داخلہ بند ہے‘ کا بورڈ لگانا پڑ رہا ہے۔


وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کارپوریٹ تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرنے پر ارتلا ٹی پی ایس کے اساتذہ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت طلبہ کو آگے لانے کے مقصد سے حکومت نے سرکاری اسکولوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک اسکولوں کا قیام نظر انداز کیے گئے تعلیمی نظام کو دوبارہ فعال کرنے کی ایک نیک کوشش ہے۔ وزارت تعلیم کا قلمدان بھی سنبھالنے والے ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت تعلیم پر ہر سال 27000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے مطابق سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور دیگر عہدیداروں سمیت کئی عظیم رہنماؤں نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ریونت ریڈی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے خود بھی سرکاری اسکول میں پڑھائی کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مشورہ دیا کہ طلبہ تعلیم میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں تاکہ والدین عزت نفس کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ ہر طالب علم کو اپنی پڑھائی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تاکہ وہ آئی اے ایس، آئی پی ایس افسر اور مستقبل کے سیاسی رہنما بن سکیں۔


اپنے سیاسی حریفوں کو وارننگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہاکہ کہ اگر انہوں نے ریاستی حکومت کے خلاف جھوٹے الزامات لگانا بند نہ کیے، تو وہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں اپوزیشن کا درجہ بھی کھو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن کِٹس کے لیے حکومت نے 680 کروڑ روپے کے ٹینڈر جاری کیے، لیکن اپوزیشن جماعتیں 2000 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام سیاسی حریف ارتلا ٹی پی ایس  کا دورہ کریں اور عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کا مطالعہ کریں۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ طلبہ کو ناشتہ، دوپہر کا کھانا، معیاری یونیفارم اور کِٹس فراہم کی گئی ہیں۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور ہنر فراہم کرنے کی کوششوں کے تحت ’ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈنشیل اسکول‘ اور ’ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی‘ بھی قائم کی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اسکولوں میں صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کھیلوں کو اہمیت دینے پر زور دیا۔ ’ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی‘ کا قیام اولمپک کھیلوں میں میڈل جیتنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اسکولوں میں کھیلوں کا تربیتی پروگرام پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔