سکیورٹی میں کٹوتی پر تیجسوی یادو برہم، سمراٹ چودھری کو ’چیپ منسٹر‘ قرار دیا

بہار میں لالو خاندان کی سکیورٹی میں کٹوتی کے فیصلے پر تیجسوی یادو نے شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے سمراٹ چودھری کو ’چیپ منسٹر‘ قرار دیتے ہوئے حکومت پر عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا الزام لگایا

<div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے لالو پرساد یادو خاندان کی سکیورٹی میں کٹوتی کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو ’چیپ منسٹر‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے اور اپوزیشن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ رابڑی دیوی کے سرکاری درجہ اور سہولیات میں 2005 سے اب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی لیکن اب اچانک ان کی سکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو خوف ہے، انہوں نے اپنی سکیورٹی کا انتظام کر رکھا ہے، جبکہ انہیں کسی بات کا خوف نہیں کیونکہ عوام اور پارٹی کارکن ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مناسب وقت آنے پر ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔


انہوں نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے باوجود ان کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تیجسوی یادو کے مطابق سمراٹ چودھری اگرچہ وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں لیکن ان کا طرزِ عمل اس منصب کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی، پرچہ افشا ہونے کے واقعات، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے اہم مسائل موجود ہیں، مگر حکومت ان مسائل پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی تنازعات پیدا کر رہی ہے۔

ادھر راشٹریہ جنتا دل کی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی نے بھی حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لالو پرساد یادو سابق مرکزی وزیر ریل اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، جبکہ رابڑی دیوی ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ رہی ہیں اور اس وقت قانون ساز کونسل میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں۔ ایسے میں ان کی سکیورٹی میں کٹوتی اور رہائش سے متعلق اقدامات سیاسی محرکات پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔


میسا بھارتی نے کہا کہ بہار میں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں لیکن حکومت ان چیلنجوں سے نمٹنے کے بجائے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق یہ سب عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کو سرکاری بنگلہ پندرہ دن کے اندر خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے بنگلہ خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بہار حکومت نے لالو خاندان کی سکیورٹی میں بھی کٹوتی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں اس معاملے پر گرما گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔