جموئی واقعہ پر تیجسوی یادو کا حکومت پر حملہ، کہا- ’ریاست میں بچیاں محفوظ نہیں، واقعہ انتہائی سنگین اور شرمناک‘
تیجسوی یادو نے جموئی واقعہ پر بہار حکومت کو گھیرتے ہوئے خواتین اور بچیوں کی سلامتی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے ملزمان کی گرفتاری، مڈبھیڑ کی شفاف تحقیقات اور جیل میں قیدی کی موت کی جانچ کا مطالبہ کیا
پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ورکنگ صدر تیجسوی یادو نے جموئی واقعہ کو انتہائی سنگین اور شرمناک قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو قانون و انتظام کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ منگل کو پریس کانفرنس میں انہوں نے خواتین اور بچیوں کی سلامتی پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا اور وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے ان کے سابقہ بیان کے حوالے سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ جموئی میں پیش آنے والے واقعہ کو کسی بھی صورت معمولی یا الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق ریاست میں خواتین اور بچیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے بعض رہنماؤں کے ان بیانات کا بھی حوالہ دیا، جن میں اس طرح کے واقعات کو ’چھٹ پٹ‘ یا ’انفرادی‘ واقعہ قرار دیا گیا تھا۔ تیجسوی نے کہا کہ ایسے واقعات کی سنگینی کو کم کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
جموئی معاملے میں پولیس کارروائی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے تیجسوی نے کہا کہ پولیس کے مطابق واقعے میں سات سے آٹھ افراد کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے، اس لیے تمام ملزمان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ منگل کو پولیس نے مبینہ مرکزی ملزم نندن یادو کو ایک مڈبھیڑ کے دوران ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مڈبھیڑ ہوئی اور ملزم زخمی ہو گیا۔ اس سے قبل تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا تھا، جبکہ معاملے کی تفتیش کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔
تیجسوی یادو نے مڈبھیڑ کی کارروائی کی شفافیت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ مڈبھیڑ کن حالات میں ہوئی اور پولیس کارروائی کے دوران کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے، لیکن ہر کارروائی میں جواب دہی اور شفافیت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جموئی واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملنا چاہیے۔ تیجسوی نے خواتین اور بچیوں کے خلاف حالیہ دیگر واقعات کا بھی ذکر کیا اور حکومت سے ان معاملات میں اب تک کی کارروائی کی تفصیلات بتانے کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس میں تیجسوی نے روہتاس کے ساسارام منڈل جیل میں ایک زیر سماعت قیدی کی موت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے معاملے کی عدالتی تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق قیدی کو 13 ستمبر کو عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا اور 15 ستمبر کو صدر اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔
تیجسوی نے پولیس انتظامیہ میں تبادلے اور تعیناتی میں بے ضابطگیوں کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ خواتین و بچیوں کے خلاف جرائم اور حراست میں اموات جیسے معاملات میں حکومت کو وقت مقرر کرکے کارروائی کرنی چاہیے۔
