اب بہار کی حکومت گجرات سے چلے گی: تیجسوی یادو
تیجسوی یادو نے بہار کی نئی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا اختیار باہر منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے خواتین ریزرویشن اور حدبندی کو الگ موضوع قرار دیتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کا الزام لگایا
بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بہار کی حکومت کا اختیار اب ریاست کے باہر منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب بہار کی حکومت گجرات سے چلے گی، جس سے جمہوری ڈھانچے پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
پٹنہ ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ ریاست میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں، وہ عوامی مینڈیٹ کے برخلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بہار میں ایک منتخب وزیر اعلیٰ تھا، لیکن اب ایک “چناؤ کیا گیا” وزیر اعلیٰ سامنے آیا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اصل اختیار کہیں اور موجود ہے۔
انہوں نے خواتین ریزرویشن قانون اور حدبندی کے مسئلے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن اور حدبندی دو الگ الگ موضوعات ہیں لیکن حکومت نے جان بوجھ کر دونوں کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ ان کے مطابق خواتین ریزرویشن کا بل پہلے ہی متفقہ طور پر منظور ہو چکا تھا اور اپوزیشن کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس میں پچاس فیصد ریزرویشن اور پسماندہ طبقے کی خواتین کو بھی شامل کیا جائے، مگر حکومت نے اس پر غور نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اس قانون کے نفاذ کے لیے 2034 کی حد مقرر کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تاخیر اس بات کی علامت ہے کہ حکومت سنجیدہ نہیں بلکہ محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ حکومت دکھاوے کی سیاست کر رہی ہے اور جمہوریت و آئین کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ حدبندی کا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سیاست پر گہرے ہوں گے، لیکن عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے خواتین ریزرویشن کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔
نئی حکومت کی تشکیل پر ردعمل دیتے ہوئے تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو مبارکباد دی، تاہم ان کے سیاسی سفر پر طنز بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ چودھری مختلف جماعتوں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں، جس سے ان کی سیاسی وابستگی پر سوال اٹھتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ بہار کی سیاست میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں، ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کا اختیار اب مقامی سطح پر نہیں رہا بلکہ باہر منتقل ہو چکا ہے، جو جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔