حیدرآباد: تحریک مسلم شبان کا اجلاس: موب لنچنگ، نصاب اور این آر سی پرقراردادیں منظور
تحریک مسلم شبان کے صدر دفتر میں ہفتہ کے روز منعقدہ کانفرنس میں ریاستی مندوبین نے ملت کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کر کے کئی قراردادیں منظور کی گئیں

حیدرآباد: تحریک مسلم شبان کے صدر دفتر میں ہفتہ کے روز منعقدہ کانفرنس میں ریاستی مندوبین نے ملت کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کر کے کئی قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں ایک اہم قرار داد یہ تھی کہ یہ جلسہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام ہندوستانی شہریوں کو امن کے ساتھ اور پابندیوں کے بغیر زندگی بسر کرنے کی آسانی کی ضمانت دے۔
صدر تحریک مسلم شبان محمد مشتاق ملک نے اس اجلاس کی صدارت کی جس میں دہلی،یوپی،بہار،جھارکھنڈ،مغربی بنگال،راجستھان اور دوسری کئی ریاستوں کے کم و بیش 30مندوبین کے علاوہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مندوبین بھی شامل تھے۔ کم از کم 15قراردادیں منظور کی گئیں جن میں اہم قرار دادیں شہریوں کے قومی رجسٹر (این آرسی)، موب لنچنگ،نصابی کتابوں میں تبدیلی اور اتحاد ملت سے متعلق تھیں۔قرار دادیں اشہر ہاشمی نے پیش کیں۔
واب لنچنگ سے متعلق قرارداد میں بہار کی نتیش کمار حکومت کے اس فیصلے کو مرکز اور تمام ریاستوں میں جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا کہ واب لنچنگ کی کسی بھی واردات میں ملزم شخص کو سرکاری ملازمت سے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ موب لنچنگ کی وارداتوں میں مقامی تھانوں کے انچارج کو ذمہ دار قرار دینے اور ایسے کسی کیس میں نشانہ بننے والے شخص کے خلاف جوابی ایف آئی آر کی روش کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔این آرسی سے متعلق قرارداد میں کہا گیا کہ ہندوستانی مسلمان اس کا سامنا کرے گا اور اس سلسلے میں تمام دستاویزات تیار کرکے رکھنے پر دھیان دیا جائے گا۔ ایک اور قرار داد میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے اندر ذات پات کے بھید بھاو کو ختم کیا جائے۔
نصابی کتابوں میں تبدیلی سے متعلق قرار داد میں کہا گیا کہ تاریخ سمیت مختلف مضامین کی نصابی کتابوں میں کی جانے والی گمراہ کن اور حقیقت سے بعید تبدیلیوں کا جائزہ لے کر انہیں حذف کرنے اور درست معلومات بحال کرنے کے لئے 3مؤرخین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو ایک طے شدہ وقت کے اندر خلاف واقعہ مواد کو حذف کرنے کا مشورہ دے۔ ایک قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ ملت کی اپنی ایک نصابی کمیٹی بنائی جائے اور مسلمانوں کی تاریخ پر تمام اسکول کالجوں کے لئے ایسے نصاب بنائے جائیں جو ملک کے تمام مسلم اداروں میں پڑھائے جائیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
