بہار میں سیلاب کے درمیان کشتی پر پڑھائی، اسکول زیر آب ہونے کے بعد استاذ محمد صاحب کی انوکھی پہل
استاذ محمد صاحب کا کہنا ہے کہ ’’علاقے میں سیلاب کا اثر طویل وقت تک رہتا ہے۔ ایسے میں اگر بچوں کی پڑھائی رکتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ان کے مستقبل اور سیکھنے کی صلاحیت پر پڑے گا۔‘‘

بہار میں سیلاب نے کئی علاقوں کی معمولات زندگی درہم برہم کر دی ہے۔ سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں، گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے اور اسکول بھی اس سے بچ نہیں بچ پائے ہیں، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں کٹیہار سے پڑھائی جاری رکھنے کی ایک انوکھی اور لائق ستائش تصویر سامنے آئی ہے۔ کٹیہار کے احمدآباد بلاک کے رگھوناتھ پور میں سیلاب کا پانی اسکول تک پہنچ چکا ہے، ایسے میں اسکول میں پڑھائی ممکن نہیں ہے۔ ایسے وقت میں پرائیویٹ کوچنگ چلانے والے استاذ محمد صاحب نے اسکول کے پاس کم پانی والی جگہ دیکھ کر کشتی کو ہی کلاس بنا دیا۔ اب اسی کشتی پر بچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بچے کتابیں لے کر پہنچتے ہیں اور محمد صاحب انہیں پڑھاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ استاذ خود بچوں کو کشتی سے لے کر آتے ہیں اور پڑھائی ختم ہونے کے بعد انہیں بحفاظت گھر بھی چھوڑتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے بچوں کے اہل خانہ سے باقاعدہ اجازت لے رکھی ہے۔
واضح رہے کہ کٹیہار ضلع میں سیلاب کا اثر بہت گہرا ہے، جہاں 7 بلاک کے تقریباً 9 لاکھ 39 ہزار 766 لوگ اس کی زد میں ہیں۔ انہی متاثرہ علاقوں میں احمدآباد کا رگھوناتھ پور بھی شامل ہے، جہاں نظر دورانے پر بس پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔ سڑکیں زیر آب ہیں، گھر کے چاروں طرف پانی بھرا ہوا ہے اور پرائمری اسکول کا احاطہ بھی ڈوب چکا ہے۔ پانی کم ہونے کے بعد بھی یہاں زندگی کے معمول پر لوٹنے میں کافی وقت لگے گا۔ علاقے کے لوگوں کو ہر سال اس سانحہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے بچوں کی پڑھائی کا نقصان استاذ کو گوارا نہیں ہوا اور کشتی پر ہی پڑھائی شروع کر دی۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق محمد صاحب کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیلاب کا اثر طویل وقت تک رہتا ہے۔ ایسے میں اگر بچوں کی پڑھائی رکتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ان کے مستقبل اور سیکھنے کی صلاحیت پر پڑے گا۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے کشتی پر ہی یہ اسکول شروع کر دی۔ بچوں کو پڑھانے کے لیے انہوں نے ایک ٹھہرے ہوئے اور کم پانی والی جگہ کا انتخاب کیا ہے، جہاں کشتی پر یہ کلاس چل رہی ہے۔ بچے اہل خانہ کی رضامندی سے یہاں آتے ہیں۔ استاذ خود انہیں کشتی میں بٹھا کر لاتے ہیں اور پڑھائی مکمل ہونے کے بعد پوری حفاظت سے گھر بھی چھوڑ آتے ہیں۔
محمد صاحب بتاتے ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں رہنے والے بچے ایسے حالات سے واقف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں پانی کم ہونے کی وجہ سے کشتی پر پڑھائی میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کے لیے سب سے ضروری بات بچوں کی پڑھائی جاری رکھنا ہے۔ وہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے اسکول بند ہو گیا ہے، لیکن بچوں کی پڑھائی مکمل طور پر بند نہ ہو اسی کوشش کے تحت کشتی پر کلاس چل رہی ہے۔ پانچویں جماعت کے طالب علم ستیم بتاتے ہیں کہ یہاں پانی کم ہے۔ ان کے والدین نے استاذ کے ساتھ کشتی پر پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ چھٹی جماعت کی طالبہ انّو بھی بتاتی ہیں کہ پانی کم ہونے کی وجہ سے کشتی پر ڈر نہیں لگتا۔ انہیں پڑھنے میں دل لگتا ہے۔ ان کے مطابق استاذ تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے پڑھاتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
