تلگودیشم کی شکست سے دلبرداشتہ حامی کی موت

اے پی میں تلگودیشم کو شکست پر مایوس حامی کی موت ہوگئی۔ اس کی شناخت 52سالہ مدھوسودن راو کے طورپرکی گئی ہے جو تلگودیشم کی شکست سے کافی دل برداشتہ تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
i

حیدرآباد: اے پی میں تلگودیشم کو شکست پر مایوس حامی کی موت ہوگئی۔ اس کی شناخت 52سالہ مدھوسودن راو کے طورپرکی گئی ہے جو تلگودیشم کی شکست سے کافی دل برداشتہ تھا۔

مدھوسودن کا ماننا تھا کہ اے پی کی ترقی اورریاستی دارلحکومت امراوتی کی تعمیر تلگودیشم سے ہی ممکن ہوسکتا ہے تاہم نتائج نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور اس کی صحت بگڑ گئی۔ اس کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کیاگیا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ مہلوک کا تعلق ضلع کرشنا کے چلا پلی منڈل کے آٹو ڈرائیور پی مدھوسدن کے طورپر کی گئی ہے۔


مدھوسودن چندرابابو کابڑا مداح تھا اور اس نے تلگودیشم کے لئے انتخابی مہم بھی چلائی تھی تاہم نتائج میں تلگودیشم کی شکست کے بعد وہ کافی مایوس اوردل برداشتہ ہوگیا تھا اور نتائج کی اجرائی کے بعد 23 مئی کی شب اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ اس نے اسی دوران سینہ میں درد کی شکایت کی جس پر اس کے ارکان خاندان نے اس کو منگل گری کے ایک اسپتال منتقل کیا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔

مدھوسودن کی موت کے بعد تلگودیشم کے بعض لیڈران اور کارکنوں نے اس کا آخری دیدار کیا اور غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو دختران شامل ہیں۔ بڑی بیٹی بی فارمیسی کر رہی ہے جبکہ دوسری بیٹی ڈگری میں زیرتعلیم ہے۔ دونوں بیٹیوں کی تعلیم کی تکمیل تک اس خاندان کی معاشی مدد کرنے کی تلگودیشم کے لیڈران سے دیہاتیوں نے خواہش کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔