ڈیزل اور اے ٹی ایف پر لگنے والے ٹیکس میں تخفیف کا اعلان، پٹرول کی برآمدگی کو ڈیوٹی فری رکھنے کا فیصلہ

ڈیزل کی برآمد پر لگایا گیا خصوصی اضافی ٹیکس پہلے 55.5 روپے فی لیٹر تھا، جسے اب گھٹا کر 23 روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اے ٹی ایف پر یہ ٹیکس 42 روپے سے کم کر کے 33 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔

پٹرول ڈیزل / یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی حکومت نے یکم مئی 2026 سے ڈیزل کی برآمدگی پر لگنے والے غیر متوقع منافع (وِنڈفال) ٹیکس کو کم کر کے 23 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ اسی طرح طیاروں میں استعمال ہونے والے ایندھن (اے ٹی ایف) پر یہ ٹیکس اب 33 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی جمعرات کی دیر شب جاری وزارت خزانہ کے بیان میں بتایا گیا کہ پٹرول کی برآمد پر ٹیکس اب بھی صفر ہی رہے گا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر استعمال ہونے والے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ڈیزل کی برآمد پر لگایا گیا خصوصی اضافی ٹیکس پہلے 55.5 روپے فی لیٹر تھا، جسے اب گھٹا کر 23 روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اے ٹی ایف پر یہ ٹیکس 42 روپے سے کم کر کے 33 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔


یکم مئی سے شروع ہونے والے اگلے 15 دن کے عرصے کے لیے ڈیزل کی برآمدگی پر سڑک اور ترقی کے لیے لگایا جانے والا ٹیکس (سیس) صفر رکھا گیا ہے۔ حکومت نے 26 مارچ کو ڈیزل پر 21.50 روپے اور اے ٹی ایف پر 29.5 روپے فی لیٹر برآمدی ٹیکس عائد کیا تھا۔ اس کے بعد 11 اپریل کے جائزے میں ان ٹیکسز کو بڑھا کر بالترتیب 55.5 روپے اور 42 روپے کر دیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران ملک میں ایندھن کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے یہ ٹیکس عائد کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ ایندھن برآمد کرنے والی کمپنیاں عالمی قیمتوں کے فرق کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی تھیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تقریباً 73 ڈالر فی بیرل تھیں۔ وزارت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے پیش نظر برآمدات کو کم کرکے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے یہ ٹیکس لگایا گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔