تمل ناڈو انتخابات 2026 کے دوران ضبطی 800 کروڑ سے تجاوز، 2021 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ

تمل ناڈو میں انتخابات کے دوران اب تک 800 کروڑ روپے سے زائد نقدی اور قیمتی اشیاء ضبط ہو چکی ہیں، جو 2021 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے، جبکہ جائز دستاویزات پر بڑی رقم واپس بھی کی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

چنئی: تمل ناڈو میں جاری انتخابی عمل کے دوران ضبطی کی کارروائیاں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہیں، جہاں اب تک تقریباً 800 کروڑ روپے مالیت کی نقدی، زیورات اور دیگر اشیاء ضبط کی جا چکی ہیں۔ یہ مقدار 2021 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں تقریباً دوگنی بتائی جا رہی ہے، جس سے اس بار نگرانی کے سخت نظام کا اندازہ ہوتا ہے۔

انتخابی حکام کے مطابق 2021 کے انتخابات میں مجموعی طور پر 446.28 کروڑ روپے مالیت کے تحائف اور قیمتی دھاتیں بغیر درست دستاویزات کے ضبط کی گئی تھیں، جبکہ 236.70 کروڑ روپے کی غیر حساب شدہ نقدی بھی برآمد ہوئی تھی۔ اس وقت ضبط شدہ اشیاء میں سے 50 فیصد سے زیادہ بعد میں ضروری کاغذات پیش کرنے پر واپس کر دی گئی تھیں۔

اسی دوران صرف سونے کی ضبطی 173.19 کروڑ روپے تک پہنچی تھی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قیمتی دھاتیں انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر گردش میں رہتی ہیں۔

حالیہ انتخابات میں صورتحال مزید سخت نظر آ رہی ہے۔ بدھ تک کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ضبطی 800 کروڑ روپے کے قریب پہنچ چکی ہے، جس میں غیر حساب شدہ نقدی، زیورات، نشہ آور اشیاء اور شراب شامل ہیں۔ ان میں سے 126.64 کروڑ روپے کی نقدی ایسی ہے جس کے پاس کوئی درست دستاویز موجود نہیں تھے، جس کے باعث اسے ضبط کر لیا گیا۔


حکام نے واضح کیا ہے کہ ضبط شدہ اشیاء کے مالکان اگر مناسب دستاویزات پیش کریں تو انہیں ان کا سامان واپس دیا جا سکتا ہے۔ اب تک تقریباً 400 کروڑ روپے مالیت کی ضبط شدہ اشیاء، جن میں نقدی اور قیمتی دھاتیں شامل ہیں، جانچ کے بعد واپس بھی کی جا چکی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف سخت نگرانی جاری ہے، وہیں دوسری جانب جائز دعویداروں کو راحت دینے کا عمل بھی جاری ہے۔

یہ کارروائیاں ریاست بھر میں متحرک فلائنگ اسکواڈ، مستقل نگرانی کرنے والی ٹیموں اور محکمہ انکم ٹیکس کے افسران کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر یہ ٹیمیں چوبیس گھنٹے سرگرم ہیں اور مسلسل گاڑیوں کی تلاشی، راستوں کی نگرانی اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

افسران کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد انتخابی عمل کو شفاف بنانا اور ووٹروں کو نقدی یا دیگر ترغیبات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوششوں کو روکنا ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے سخت نگرانی ناگزیر ہے، اور اسی مقصد کے تحت تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔