تمل ناڈو: مدورائی کی ضلع عدالت نے 9 پولیس اہلکاروں کو دی سزائے موت، باپ-بیٹے پر ظلم کا ملا انصاف

جج متھوکمارن نے کہا کہ اگر عام شہری نے یہ جرم کیا ہوتا تو عام سزا دی جا سکتی تھی، لیکن جرم پولیس نے کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حراست میں تشدد کی یہ واضح مثال ہے۔

عدالت، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

تمل ناڈو میں 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مدورائی کی ضلع عدالت نے پیر کے روز سانتاکولم میں حراستی موت معاملہ میں قصوروار پائے گئے 9 پولیس اہلکاروں کو موت کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ ’نایاب‘ زمرہ کا ہے۔ ان پولیس اہلکاروں کو جون 2020 میں پی جیراج اور ان کے بیٹے جے بینکس کی حراست میں موت اور مظالم کے معاملہ میں قصوروار پایا گیا۔

جج متھوکمارن نے اس معاملہ میں سزا سناتے ہوئے کہا کہ اگر عام شہری نے یہ جرم کیا ہوتا تو عام سزا دی جا سکتی تھی، لیکن جرم پولیس نے کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حراست میں تشدد کی یہ واضح مثال ہے۔ ثبوتوں سے پتہ چلا کہ باپ اور بیٹے کو پولیس حراست میں بری طرح پیٹا گیا۔ انسپکٹر ایس سری دھر نے حملہ کے لیے اکسایا، جبکہ دیگر پولیس اہلکار تشدد اور اس کے بعد ثبوتوں کو چھپانے میں شامل تھے۔


قابل ذکر ہے کہ ملزمین پر قتل، سنگین چوٹ پہنچانے، ثبوت پیدا کرنے اور جھوٹے معاملے درج کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پولیس نے 58 سالہ جیراج اور 31 سالہ بینکس کو 19 جون 2020 کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران اصول توڑنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد ان کی کووِل پتی سرکاری اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ جانچ میں پتہ چلا کہ پولیس حراست میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔

سی بی آئی نے فورنسک ثبوت، میڈیکل رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر ثابت کیا کہ سانتاکولم تھانہ میں ان پر شدید حملہ ہوا تھا۔ تھانہ میں پائے گئے خون کے دھبے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج چوٹیں اہم ثبوت رہے۔ ملزم اسپیشل ڈپٹی انسپکٹر پالدورائی کی مقدمہ کے دوران کورونا سے موت ہو گئی تھی۔ یہ معاملہ پورے ملک میں حراستی تشدد اور پولیس کی جوابدہی پر بحث کا مرکز بن گیا تھا۔ اب سزا سنائے جانے کے بعد معاملہ آخری مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔