تمل ناڈو: محکمۂ تعلیم نے اسکولی عمارتوں کی جانچ اور احاطوں کو محفوظ بنانے کی دی ہدایت

محکمۂ تعلیم کے ایک سرکلر میں اسکولوں کے سربراہان اور چیف ایجوکیشن افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چھتوں، پیراپیٹ دیواروں اور سن شیڈ کی جانچ کریں۔

<div class="paragraphs"><p>اسکولی محکمۂ تعلیم، تمل ناڈو، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

تمل ناڈو کے اسکولی محکمۂ تعلیم نے اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کی جانچ کریں، پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات کو محفوظ بنائیں اور جمع شدہ بارش کے پانی کو ہٹائیں۔ مانسون میں ہوئی بارش کی وجہ سے اسکولوں میں طلباء کی حفاظت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ محکمۂ تعلیم کے ایک سرکلر میں اسکولوں کے سربراہان اور چیف ایجوکیشن افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چھتوں، پیراپیٹ دیواروں اور سن شیڈ کی جانچ کریں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ان میں رساؤ یا کوئی نقصان تو نہیں ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں کو گھیر کر الگ کر دیا جانا چاہیے اور کسی بھی حادثے کو روکنے کے لیے پانی ٹنکیوں کی مضبوطی کی جانچ ہونی چاہیے۔

اسکول سربراہان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسی عمارتوں کی فہرست تیار کریں، جو استعمال میں نہیں ہیں، بہت پرانی ہیں، یا خستہ حال ہو چکی ہیں اور جنہیں منہدم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں مقامی اداروں کے ساتھ تال میل قائم کرنا چاہیے اور متعلقہ حکام کو مطلع کرنا چاہیے، تاکہ کارروائی میں تیزی لائی جا سکے۔ محکمے نے کہا ہے کہ گرام پنچایتوں، نگر پنچایتوں اور میونسپلٹیوں کو خستہ حال عمارتوں کے بارے میں خبردار کیا جانا چاہیے۔ محکمۂ تعمیرات عامہ اور کلکٹر کے دفتر کو بھی مطلع کیا جانا چاہیے اور عمارتوں کو منہدم کرنے کے لیے ضروری منظوری جلد از جلد حاصل کی جانی چاہیے۔


ان ہدایات کے تحت اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے لیے خطرہ بننے سے قبل ہی ممکنہ خطرات کی نشاندہی کر لیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلسل بارش کی وجہ سے کمزور عمارتیں اور بھی زیادہ کمزور ہو سکتی ہیں۔ چیف ایجوکیشن افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکول کے احاطے میں موجود کھلے کنوؤں، زمین کے اندر بنی پانی کی ٹنکیوں، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے ڈھانچوں اور سیپٹک ٹینکوں کی جانچ کریں۔ طلبہ کو حادثاتی طور پر ان میں گرنے سے بچانے کے لیے ان تمام جگہوں کو کنکریٹ یا لوہے کے ڈھکنوں سے محفوظ کیا جانا چاہیے۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جن اسکولوں میں تعمیراتی کام جاری ہے، وہاں کام کی جگہوں کو بیریکیڈ لگا کر گھیر دینا چاہیے اور لوگوں کی آمد و رفت روک دینی چاہیے۔ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے آلات کو طلباء کی پہنچ سے دور رکھا جانا چاہیے۔ محکمے نے اسکول کے احاطے میں بارش کا پانی جمع ہونے اور احاطے کی دیواروں کی حالت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے دیواروں میں نمی آسکتی ہے، جس سے ان کے کمزور ہونے یا گرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔


چنئی کے چیف ایجوکیشن آفس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ ہیڈ ماسٹروں کو دیواروں کی جانچ کرنے، حفاظتی خدشات کے سلسلے میں مقامی اداروں کے ساتھ تال میل قائم کرنے اور جہاں ضروری ہو، وہاں دیواروں کی تبدیلی کے لیے درخواست بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ جن اسکولوں کے میدان میں بارش کا پانی جمع ہو جاتا ہے، وہاں ہیڈ ماسٹروں کو پانی نکالنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس سرکلر میں اسکول انتظامیہ، تعلیمی افسران، مقامی اداروں اور انجینئرنگ محکموں کو مل کر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ اسکولوں کے احاطوں میں موجود خطرات کو دور کیا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔