’4 ماہ میں لیجیے فیصلہ‘، ٹی ایم سی کے انتخابی نشان پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دی ڈیڈ لائن
سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جسے مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی بانی ممتا بنرجی نے دائر کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کے نام اور انتخابی نشان کے تنازعہ پر اہم ہدایت دی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے ٹی ایم سی سے متعلق تنازعہ پر 4 ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے لیے ایک مدت بھی مقرر کی ہے۔ اس کے تحت کمیشن کو ’انتخابی نشان (ریزرویشن اور الاٹمنٹ) آرڈر، 1968‘ کے پیرا 15 کے تحت آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) میں ممتا بنرجی اور رتبرت بنرجی کے گروپوں کے درمیان انتخابی نشان کے تنازعہ پر حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ سپریم کورٹ نے دونوں فریقوں سے 4 ہفتے کے اندر اپنے حلف نامے اور جوابی حلف نامے داخل کرنے کو کہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی معاملے سے متعلق دلائل اور دستاویزات بھی 4 ہفتے کے اندر مکمل ہو جانے چاہئیں۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کو 3 ماہ کے اندر اس معاملے پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس طرح سپریم کورٹ نے اپنی ہدایت میں معاملے کا تصفیہ مجموعی طور پر 4 ماہ کی مدت کے اندر کرنے کو کہا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جسے مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی بانی ممتا بنرجی نے دائر کیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کے مخالف گروپوں کے درمیان تنازعہ کے سبب آل انڈیا ترنمول کانگریس کے نام اور اس کے ’پھول اور گھاس‘ والے انتخابی نشان کو منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
ممتا بنرجی کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے گزشتہ سماعت، یعنی 24 ستمبر کو عدالت کو بتایا تھا کہ عبوری حکم کو چیلنج نہیں کیا جا رہا ہے اور درخواست گزار جلد فیصلہ چاہتے ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ اس معاملے پر فیصلہ لینے میں کتنا وقت لگے گا اور کہا کہ جلد فیصلہ ضروری ہے۔ پیر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ داما شیشدری نائیڈو نے کہا کہ انتخابی نشان سے متعلق تنازعہ میں وقت لگنا طے ہے، کیونکہ پارٹی کارکنان کی جانب سے لاکھوں حلف نامے موصول ہوں گے۔ جسٹس باغچی نے مشورہ دیا کہ الیکشن کمیشن اے آئی ٹولز کا استعمال کر سکتا ہے اور 3 ماہ کے اندر معاملے پر فیصلہ لے سکتا ہے، کیونکہ الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ پہنچنے کے بعد پہلے ہی 3 ماہ گزر چکے ہیں۔
نائیڈو نے کہا کہ اگر عدالت کوئی مدت مقرر کر رہی ہے تو وہ اس تاریخ سے ہونی چاہیے، جب فریقین اپنے حلف نامے داخل کریں۔ انہوں نے عدالت کو انتخابی نشان سے متعلق گزشتہ تنازعات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنائی گئی مدت کی بھی معلومات دیں۔ سینئر ایڈووکیٹ مکل روہتگی اور نیرج کشن کول رتبرت بنرجی کی قیادت والے گروپ کی جانب سے پیش ہوئے۔ سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل اور کلیان بندوپادھیائے نے کہا کہ ممتا بنرجی گروپ نے جولائی میں ہی اپنا جواب داخل کر دیا تھا، جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے ابھی جوابی حلف نامہ داخل کیا جانا باقی تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
