تبلیغی جماعت پر پابندی عائد کی جائے: اعلی حضرت ٹرسٹ

رضا خان نے کہا کہ تبلیغی جماعت نے بغیر کسی سیکوریٹی اور طبی احتیاط کے یہ کانفرنس منعقد کی جبکہ اس مرض کو پہلے ہی وبا قرار دیا گیا تھا اس طرح انہوں نے ملک اور دیگر کو بھی سخت مشکل حالات میں ڈال دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: اعلی حضرت ٹرسٹ نے مطالبہ کیا کہ مرکز کو چاہیے کہ وہ تبلیغی جماعت پر فوری پابندی عائد کرے اور اس کے منتظمین کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے بغیر کسی سیکوریٹی اور طبی احتیاط کے کورونا وائرس کے اہم وقت میں یہ کانفرنس منعقد کی۔

ٹرسٹ کے صدر معتصم رضا خان نے اس خصوص میں وزیراعظم کے دفتر کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کو ایک مکتوب روانہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کے درد سے پوری دنیا چیخ رہی ہے اور اپنے چہیتے افراد سے محرومی پر غم سے دو چار ہے، ہم بلاتفریق کسی مذہب یا سماجی گروپ سے اس طرح کا غیرذمہ دارانہ رویہ برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے ذمہ دار منتظمین نے بغیر کسی سیکوریٹی اور طبی احتیاط کے یہ کانفرنس منعقد کی جبکہ اس مرض کو پہلے ہی وبا قرار دیا گیا تھا اس طرح انہوں نے ملک اور دیگر کو بھی سخت مشکل حالات میں ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجتماع کا اثر واضح نظر آیا کیونکہ تقریباً 8000 افراد نے اس اجتماع میں شرکت کی جن میں سے تقریباً 1500 افراد کا تعلق صرف تمل ناڈو سے ہے۔ ان میں 900 مذہبی مبلغین ہیں۔ اس اجتماع کے بعد 600 افراد دہلی میں ہی رہے اور دہلی، یوپی، رانچی کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ بغلگیر ہوئے۔

ان میں سے بیشتر کی حالت بہتر نہیں تھی اور انہوں نے یہ بات حکومت کو نہیں بتائی۔ اس طرح تمام کی جان کو خطرہ میں ڈال دیا گیا۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کی جانچ کروائے کیونکہ ان افراد نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے افراد کی جان کو بھی خطرہ میں ڈال دیا۔