سپریم کورٹ میں خواتین ریزرویشن قانون کے فوری نفاذ کی مانگ پر آج سماعت

سپریم کورٹ آج خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کے فوری نفاذ سے متعلق درخواست پر سماعت کرے گا۔ درخواست میں مردم شماری اور حلقہ بندی کی شرط کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مجوزہ خصوصی اجلاس سے قبل سپریم کورٹ آج اس اہم درخواست پر سماعت کرے گا جس میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر جاری کاز لسٹ کے مطابق یہ معاملہ جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اُجول بھویان پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش ہوگا۔

یہ درخواست کانگریس لیڈر جیا ٹھاکر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کو مزید مؤخر کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ ’ناری شکتی وندن قانون‘ کو فوری طور پر نافذ کیا جائے، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کرنے کا التزام فراہم کرتا ہے۔

درخواست میں یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ مردم شماری اور اس کے بعد حلقہ بندی مکمل ہونے کی شرط غیر ضروری ہے، کیونکہ موجودہ نشستوں کی تعداد پہلے ہی طے ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل خواتین اب بھی منتخب اداروں میں مناسب نمائندگی سے محروم ہیں، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔


یاد رہے کہ نومبر 2023 میں سپریم کورٹ نے اس قانون کی اس شق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ختم کرنا آسان نہیں ہوگا، جس کے تحت خواتین کے لیے ریزرویشن کا نفاذ اگلی دہائی کی مردم شماری اور اس کے بعد حلقہ بندی کے عمل کی تکمیل سے مشروط کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس وقت یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ قانون سازی کے اس پہلو میں مداخلت ایک پیچیدہ معاملہ ہو سکتا ہے۔

یہ سماعت اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ 16 اپریل سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں خواتین ریزرویشن ترمیمی بل پر غور متوقع ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خط لکھ کر اس بل کی حمایت کی اپیل کی ہے تاکہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اس کے نفاذ کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اپنے خط میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک کو ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے ہدف کے لیے قانون ساز اداروں میں خواتین کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس قانون کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔

دوسری جانب کانگریس نے مجوزہ خصوصی اجلاس پر اعتراض اٹھایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں جاری اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس اجلاس کا انعقاد انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ کانگریس نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ خواتین ریزرویشن کے نفاذ سے قبل حلقہ بندی کے مسئلے پر کل جماعتی میٹنگ بلائی جائے تاکہ تمام فریقین کی رائے کو شامل کیا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔