سنٹرل وسٹا لائبریری پر سپریم کورٹ نے لیا ازخود نوٹس، پیر کو ہوگی سماعت
سنٹرل وسٹا لائبریری میں بڑی تعداد میں کتابیں اور پرانے ریکارڈ موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہاں تقریباً 8.5 لاکھ کتابیں ہیں۔ یہ لائبریری طویل عرصے سے سرکاری دستاویزات اور کتابوں کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے 132 سال پرانی سنٹرل وسٹا لائبریری سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا ہے۔ معاملے کی سماعت پیر کو ہوگی۔ دراصل لائبریری کے مستقبل کو لے کر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ شاستری بھون کے منہدم کیے جانے کے بعد یہاں موجود کتابوں اور پرانے دستاویزات کو کہاں رکھا جائے گا۔ سنٹرل وسٹا لائبریری میں بڑی تعداد میں کتابیں اور پرانے ریکارڈ موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہاں تقریباً 8.5 لاکھ کتابیں ہیں۔ یہ لائبریری طویل عرصے سے سرکاری دستاویزات اور کتابوں کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔
دراصل شاستری بھون کو منہدم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد سنٹرل وسٹا لائبریری کے مستقبل کو لے کر سوال اٹھے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ لائبریری میں رکھی کتابوں اور پرانے دستاویزات کو محفوظ طریقے سے کہاں منتقل کیا جائے گا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق وزارت ثقافت نے بھی لائبریری کو دوسری جگہ منتقل کرنے کو لے کر تشویش ظاہر کی تھی۔
اس معاملے پر وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور نے سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات دی تھی۔ وزارت نے کہا تھا کہ سنٹرل وسٹا منصوبے میں لائبریری کے لیے جگہ دستیاب کرائی گئی ہے۔ تاہم شاستری بھون کو منہدم کرنے کے منصوبے کے درمیان یہ سوال برقرار ہے کہ موجودہ لائبریری کو کب اور کیسے دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی لاکھوں کتابوں اور پرانے دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے انتظامات کو لے کر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اب سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ عدالت میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والی تشویش پر سماعت کرے گی۔ عدالت یہ بھی دیکھے گی کہ لائبریری کے حوالے سے کیا انتظام کیا گیا ہے۔ لائبریری میں موجود کتابوں اور پرانے دستاویزات کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ان کے تحفظ کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ شاستری بھون کی مجوزہ مسماری سے پہلے ان کی محفوظ منتقلی کے حوالے سے صورت حال واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ پیر کو اس معاملے پر سماعت کرے گی۔ اس کے بعد لائبریری کے مستقبل اور وہاں موجود کتابوں اور دستاویزات کے حوالے سے صورت حال مزید واضح ہو سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
