غیر قانونی کالونیوں پر سپریم کورٹ سخت، میرٹھ میں سیل ہوں گی 16726 جائیدادیں، غیر مجاز تعمیرات منہدم کرنے کی ہدایت
21 ستمبر کے اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ زون اے میں معائنہ اور سروے کے لیے لگائی گئی 16 ٹیموں نے 16726 تعمیرات کی نشاندہی مکمل طور سے غیرقانونی یا غیر مجاز کے طور پر کی ہے۔

غیر قانونی تعمیرات اور رہائشی جائیدادوں کے تجارتی استعمال پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو میرٹھ میں 16726 جائیدادوں کو سیل کرنے اور غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن کی بنچ نے میرٹھ کے باہری علاقے اُلدے پور میں غیر قانونی رہائشی کالونیاں تیار کیے جانے کی نوعیت کی تفصیلی جانچ کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سدھانشو دھولیا کی صدارت میں ایک عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا ہے۔
بنچ نے اترپردیش ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے چیئرمین پی گرو پرساد کی جانب سے داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ دیکھنے کے بعد کہا کہ ’’ہم یہ جان کر حیران اور پریشان ہیں کہ اسٹیٹس رپورٹ پڑھنے پر پتہ چلتا ہے کہ اُلدے پور میں سینکڑوں غیر قانونی رہائشی کالونیاں بن گئی ہیں۔‘‘ بنچ نے کہا کہ محکمہ نے میرٹھ کے مختلف حصوں کا معائنہ اور سروے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر کو 4 زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہیں زون اے، زون بی، زون سی اور زون ڈی نام دیا گیا ہے۔ 21 ستمبر کے اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ زون اے میں معائنہ اور سروے کے لیے لگائی گئی 16 ٹیموں نے 16726 تعمیرات کی نشاندہی مکمل طور سے غیرقانونی یا غیر مجاز کے طور پر کی ہے۔
ان 16726 تعمیرات میں 12907 رہائشی، 874 رہائشی اور غیر رہائشی دونوں طرح کی اور 2945 غیر رہائشی تعمیرات شامل ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق سابقہ ہدایات پر عمل نہ کیے جانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے افسران کو زون اے کے تمام 16726 غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جلد از جلد مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ بنچ نے کہا کہ ’’اس عمل مین پہلا قدم قابضین سے احاطہ کھالی کرنے کے لیے کہنا اور تمام احاطوں یعنی 16726 غیر قانونی تعمیرات کو سیل کرنا ہے۔ ہم یہی ہدایت دیتے ہیں۔‘‘ عدالت نے کہا کہ ممکن ہے کہ ان میں کچھ تعمیرات خستہ حال ہوں اور ان کے گرنے سے لوگوں کی جان جا سکتی ہے۔ وہ کسی بھی قیمت پر ایسا نہیں چاہتی اور اس لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے چاروں زون میں بھی فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر بدقسمتی سے کسی واقعہ میں بے قصور افراد کی جان جاتی ہے تو اس کے لیے ذمہ دار سرکاری افسر کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اسٹیٹس رپورٹ میں زون بی، زون سی اور زون ڈی کی صورتحال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے ان 3 زون میں موجود غیر قانونی تعمیرات کی تعداد کے متعلق فی الحال عدالت کے پاس مکمل اطلاع نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ آئندہ سماعت میں متعلقہ اتھارٹی کو زون بی، زون سی اور زون ڈی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ’’چونکہ زون اے میں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی ہو چکی ہے، اس لیے اب انہیں گرانے کے لیے مناسب کارروائی کی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
