لکھنؤ کوچنگ آتشزدگی: سپریم کورٹ کا ایل ڈی اے کو توہینِ عدالت کا نوٹس، ایس آئی ٹی رپورٹ طلب
سپریم کورٹ نے غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں پر اپنے پرانے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔

لکھنؤ کے کوچنگ سنٹر میں آتشزدگی کے واقعے پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں پر اپنے پرانے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ایل ڈی اے کے نائب صدر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے اور حادثے کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی سے مہر بند لفافے میں رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
لکھنؤ کا وہ آتشزدگی کا واقعہ جس نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے، اب اس کی گونج ملک کی سب سے بڑی عدالت تک پہنچ چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سخت رخ اختیار کرتے ہوئے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک حادثے کا نہیں بلکہ عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کا بھی ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی یہ ہدایات دی تھیں کہ رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر چلنے والی تجارتی سرگرمیوں اور عمارتوں کے غلط استعمال کی شناخت کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ لیکن لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ان ہدایات پر ٹھیک سے عمل نہیں کیا۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایل ڈی اے کے نائب صدر کو اگلی سماعت پر ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے، یعنی اب محکمہ کے اعلیٰ ترین افسر کو عدالت کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے اس پورے حادثے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی مکمل تفتیشی رپورٹ مہر بند لفافے میں عدالت کے سامنے پیش کرے۔
قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ کے اس کوچنگ سنٹر آتشزدگی کے واقعے نے پہلے ہی حفاظتی معیارات، غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں اور انتظامی جوابدہی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ اب سپریم کورٹ کی سختی کے بعد سب کی نظریں ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور ایل ڈی اے کے جوابات پر مرکوز ہیں۔ فی الحال اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے اور آگے کی کارروائی عدالت کی ہدایات اور ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر طے ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
