مالدہ میں عدالتی افسران کو یرغمال بنانے پر سپریم کورٹ ناراض، الیکشن کمیشن کو سی بی آئی یا این آئی اے سے جانچ کرانے کی ہدایت
عدالت نے کہا کہ 7 عدالتی افسران کو گھنٹوں سیکورٹی، خوراک اور پانی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ اس معاملے میں ریاست کے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی گہما گہمی کے دوران سپریم کورٹ نے مالدہ ضلع میں الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل میں تعینات عدالتی افسران کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا اور سخت ریمارکس دیئے۔ سپریم کورٹ نے بنگال کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کے رویے پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے پوچھا کہ دونوں افسران جائے وقوعہ پر کیوں نہیں پہنچے۔ 7 عدالتی افسران کو 9 گھنٹے تک حراست میں رکھنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال میں مالدہ کے ایک گاؤں میں ہوئے احتجاج کے دوران یہ واقعہ پیش آیا جہاں مظاہرین نے عدالتی افسران کو گھیرلیا اور انہیں وہاں سے جانے نہیں دیا۔
سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ کے سامنے مغربی بنگال میں ایس آئی آر معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ابھی ٹیلی گراف سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ میں اس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتا لیکن ہمیں صبح 2 بجے سے ہی رپورٹ مل رہی تھیں، یہاں شام 5 بجے افسران کا گھیراؤ کیا اور 11 بجے تک وہاں کوئی نہیں تھا۔ کپل سبل نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے۔
مالدہ ضلع میں ایس آئی آر ڈیوٹی کے دوران ججوں پر ہوئے حملے کے بعد سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے بارے میں کہا کہ ہم نے اس طرح کی پولرائزڈ ریاست پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ چیف جسٹس نے مغربی بنگال کے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ بدقسمتی سے آپ کی ریاست میں آپ سبھی سیاسی زبان بولتے ہیں، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے، ہم نے ایسی پولرائزڈ ریاست پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو عدالتی افسران کی سیکیورٹی کے لیے مرکزی فورسز کو طلب کرنے کا حکم دیا۔ الیکشن کمیشن سے کہا گیا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی یا این آئی اے جیسی آزاد ایجنسی کو سونپے۔
سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس واقعہ کو نظام انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کی دانستہ اور جرات مندانہ کوشش قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ 3 خواتین سمیت 7 عدالتی افسران کو ریاستی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع کے باوجود گھنٹوں سیکورٹی، خوراک اور پانی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاست کے سینئر افسران چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان کے رویے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بروقت موثر کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ معاملے کی اگلی سماعت پر متعلقہ حکام کی ورچوئل موجودگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور ان سے تعمیلی رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔