مدراس ہائی کورٹ کے ’گئو کشی‘ پر پابندی سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ نے لگائی روک
تمل ناڈو کی ریاستی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں پوری ریاست میں گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے آج مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دی، جس میں تمل ناڈو میں کہیں بھی بقرعید یا دیگر ایام میں گائے یا بچھڑے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے تمل ناڈو حکومت کی جانب سے دائر اسپیشل لیو پیٹیشن (ایس ایل پی) پر نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ عبوری حکم جاری کیا۔ ریاستی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں پوری ریاست میں گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کا آخری پیراگراف، جس میں ریاست بھر میں پابندی لگانے کی ہدایت دی گئی تھی، پہلی نظر میں اصلاح کا مطالبہ کرتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے موقف پیش کیا۔ ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کا حکم تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1958 کے برعکس ہے۔ اس قانون کے تحت مجاز اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 10 سال سے زیادہ عمر کی ان گایوں کو ذبح کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جو کام کرنے اور افزائش نسل کے لیے نااہل ہو چکی ہوں۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1960، پریوینشن آف کروئلٹی ٹو اینیملز (ذبح خانہ) رولز 2001، تامل ناڈو اربن لوکل باڈیز ایکٹ 1998 اور تمل ناڈو اربن لوکل باڈیز رولز 2023 جیسے دیگر قوانین ذبح کرنے کے عمل اور شرائط کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن ان میں کہیں بھی مکمل پابندی کی گنجائش نہیں ہے۔ ریاست کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی لگا کر ہائی کورٹ نے قانونی ضابطے کی جگہ عدالتی قانون بنا دیا ہے۔
مدراس ہائی کورٹ کی بنچ جس میں جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس وی لکشمی نارائن شامل تھے، نے 27 مئی کو بقرعید سے عین قبل یہ حکم جاری کیا تھا۔ یہ فیصلہ ’ہندو مکل کاچی‘ کے جنرل سکریٹری کے سوریا پرشانت کی طرف سے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سنایا گیا تھا۔ عرضی گزار نے صرف یہ مانگ کی تھی کہ ذبیحہ مقررہ مقامات پر ہی کرایا جائے، لیکن ہائی کورٹ نے اس سے آگے بڑھتے ہوئے گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر کہیں بھی اور کسی بھی دن مکمل پابندی عائد کرنے کا ایک وسیع حکم دے دیا۔ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے ایک سرکاری حکم نامے کا حوالہ دیا جس میں دودھ کی پیداوار اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا جن میں کہا گیا ہے کہ بقرعید پر ’گئو کشی‘ اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔
ریاستی حکومت نے کہا کہ جب موجودہ قانون مقررہ مقامات پر گائے کی ایک مخصوص قسم کے ذبیحہ کی اجازت دیتا ہے، تو اس کے برعکس کوئی عدالتی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتی۔ حکومت نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ہائی کورٹ نے سرکاری حکم نامہ نمبر 1715 کا حوالہ دیا، جبکہ اس کی قانونی حیثیت یا نفاذ کا سوال عدالت کے سامنے کبھی اٹھایا ہی نہیں گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کوئی بھی انتظامی حکم ریاست میں نافذ قوانین سے اوپر نہیں ہو سکتا۔
اسپیشل لیو پٹیشن میں ریاستی حکومت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے سامنے دائر کردہ رٹ پٹیشن صرف کوئمبٹور میں بقرعید کے دوران عوامی مقامات پر ’گئو کشی‘ کو روکنے تک محدود تھی۔ اس کے باوجود ڈویژن بنچ نے معاملے کا دائرہ بڑھاتے ہوئے پوری ریاست میں ہر صورتحال میں گؤ کشی پر پابندی لگا دی، یہاں تک کہ منظور شدہ مذبح خانوں میں بھی، جبکہ عرضی گزار نے ایسی کوئی راحت نہیں مانگی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت نے ایسی راحت فراہم کر دی جس کے لیے نہ تو کوئی استدعا کی گئی تھی اور نہ ہی اس پر بحث ہوئی تھی۔
ریاستی حکومت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کے ایک حصے میں یہ تسلیم کیا کہ جانوروں کا ذبیحہ صرف منظور شدہ مذبح خانوں میں ہی کیا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف اس نے یہ ہدایت بھی دے دی کہ بقرعید یا کسی بھی دوسرے دن کوئی گائے یا بچھڑا نہیں کاٹا جانا چاہیے۔ حکومت کے مطابق یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے برعکس ہیں اور یہ فیصلہ بذات خود تضاد کا شکار ہو جاتا ہے۔
عرضی میں حکومت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ہائی کورٹ نے یہ فرض کر لیا کہ عوامی مقامات پر گؤ کشی کی جا رہی تھی یا کی جائے گی، جبکہ پولیس نے اپنے جوابی حلف نامے میں واضح طور پر کہا تھا کہ پہلے ہی تمام احتیاطی اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ یقینی بنایا گیا تھا کہ عوامی مقامات پر کسی بھی طرح کا ذبیحہ نہ ہو اور مذہبی قربانی صرف بند اور عوامی نظروں سے اوجھل مقامات تک ہی محدود رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کا یہ نتیجہ ریاست کی طرف سے پیش کیے گئے حقائق کے برعکس ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
