صحافیوں کی چھٹنی معاملہ میں سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو بھیجا نوٹس

عدالت نے کہا کہ ہر طرح کی یونین لوگوں کو نوکری سے ہٹانے، بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیجنے، تنخواہ کاٹنے جیسے موضوع اٹھا رہی ہے۔ لہٰذا نوٹس جاری کیا جاتا ہے، جس پر دو ہفتے کے اندر اندر جواب دینا ہوگا

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بہانے صحافیوں کو زبردستی چھٹی پر بھیجنے، تنخواہ مراعات میں کمی اور نوکری سے نکالے جانے کے مبینہ واقعات کے خلاف درخواست پر مرکز کی مودی حکومت اور دیگر کو پیر کو نوٹس جاری کیے۔

جسٹس این وی رمن، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے نیشنل الائنس آف جرنلسٹس، دہلی یونین آف جرنلسٹس اور برہن ممبئی یونین آف جرنلسٹس کی درخواست کو سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، انڈین نیوز پیپرس ایسوسی ایشن اور نیوز براڈکاسٹرس ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب دینے کو کہا ہے۔


سماعت کے آغاز میں درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کولن گونجالویز نے اپنی دلیلیں پیش کیں، جس پر جسٹس کول نے کہا کہ اس معاملے میں نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کورٹ سے نوٹس جاری نہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے پٹیشن کی کاپی دی جائے، ہم اپنا جواب دیں گے“۔

عدالت نے کہا، ”ہر طرح کی یونین لوگوں کو نوکری سے ہٹائے جانے، بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیجنے، تنخواہ کاٹنے جیسے موضوع اٹھا رہی ہے۔ تجارت تقریباً بند ہے۔ اس معاملے پر سماعت ضروری ہے۔ لہذا نوٹس جاری کیا جاتا ہے، جس پر دو ہفتے کے اندر اندر جواب دینا ہو گا۔"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔