آئینی عہدے داروں کے قبل از وقت استعفی پر سپریم کورٹ سخت، مرکز سے جواب طلب

سپریم کورٹ نے آئینی عہدے داروں کے مدتِ کار مکمل ہونے سے پہلے استعفے کے معاملے میں مرکز سے جواب طلب کیا ہے۔ پی آئی ایل میں عہدے سے ہٹنے سے بچنے والوں کی مراعات روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آئینی عہدوں پر فائز افراد کی مدتِ کار مکمل ہونے سے قبل استعفیٰ دینے کے معاملے پر مرکز سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت میں دائر مفادِ عامہ کی عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے آئینی عہدے دار، جو مبینہ طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے استعفیٰ دے دیتے ہیں، انہیں استعفے کے بعد ملنے والے الاؤنس، سہولتیں اور دیگر فوائد سے محروم کیا جائے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا کی بنچ نے جمعرات کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 17 ستمبر کو مقرر کی ہے۔

ممبئی کے رہائشی درخواست گزار پرتیک ویرا نے وکیل سنگرام سنگھ آر. بھونسلے کے ذریعے یہ مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ عرضی میں اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد کے مدتِ کار مکمل ہونے سے پہلے استعفیٰ دینے سے متعلق ایک وسیع تر آئینی سوال اٹھایا گیا ہے۔

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ جو آئینی عہدے دار ایک مقررہ مدت کے لیے منتخب یا مقرر کیے جاتے ہیں، ان پر اپنی مدت مکمل کرنے اور عہدے سے وابستہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جب تک کہ انہیں آئین میں مقرر کردہ طریقۂ کار کے تحت عہدے سے نہ ہٹایا جائے۔


عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی عہدے دار عہدے سے ہٹائے جانے یا عدم اعتماد کی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے درمیان میں ہی استعفیٰ دے دیتا ہے تو اس سے اعلیٰ آئینی عہدے داروں کو ہٹانے کے لیے آئین میں موجود حفاظتی انتظامات کا مقصد کمزور ہوتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، ایسے عہدے اپنے حاملین پر ایک غیر تحریری آئینی ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ یا تو اپنی مدت مکمل کریں یا عہدے سے ہٹائے جانے کے لیے شفاف آئینی عمل کا سامنا کریں۔

پی آئی ایل میں یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ استعفے کے بعد ملنے والے الاؤنس اور دیگر مراعات بعض آئینی عہدے داروں کو استعفیٰ دینے کی ترغیب دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ایسی کارروائی سے بچ سکتے ہیں جس میں انہیں عہدے سے ہٹایا جا سکتا تھا۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے آئینی عہدے دار، جو خاص طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کی کارروائی سے بچنے کے لیے مدتِ کار کے دوران استعفیٰ دیتے ہیں، انہیں وہ مالی فوائد، سہولتیں اور مراعات نہ دی جائیں جو عام طور پر مدت مکمل ہونے کے بعد دستیاب ہوتی ہیں۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا انتظام عوامی زندگی میں دیانت داری، شفافیت، جواب دہی اور آئینی طرزِ عمل کو فروغ دے گا۔ درخواست گزار نے عام سرکاری ملازمین کے سروس قواعد کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ کئی معاملات میں محکمانہ کارروائی زیرِ التوا ہونے کی صورت میں ملازمین کے استعفے پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں، خاص طور پر جب کارروائی کے نتیجے میں برطرفی یا دیگر سزا کا امکان ہو۔


عرضی گزار کے مطابق آئینی عہدے داروں سے اس سے بھی زیادہ اعلیٰ معیار کی دیانت داری اور جواب دہی کی توقع کی جانی چاہیے۔ عرضی میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مدتِ کار کے دوران استعفیٰ دینے والے آئینی عہدے داروں کے ساتھ مراعات کے معاملے میں مختلف برتاؤ آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے اس معاملے کو آئینی قانون کے ایک بنیادی سوال کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی ہے اور واضح کیا ہے کہ عرضی کسی مخصوص فرد یا واقعے کے خلاف نہیں ہے۔ اس میں ایسے مناسب قواعد اور ہدایات وضع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جن کے تحت عہدے سے ہٹائے جانے کی کارروائی سے بچنے کے لیے مدتِ کار کے دوران استعفیٰ دینے والے آئینی عہدے داروں کو بعد از استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ کے مخصوص فوائد سے محروم رکھا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔