سپریم کورٹ نے ’ای-20 پٹرول‘ سے متعلق دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت سے کیا انکار
عرضی میں مطالبہ کیا گیا کہ پٹرول پمپ کے ہر نوزل پر واضح طور پر لکھا جائے کہ پٹرول میں کتنے فیصد ایتھنول ملایا گیا ہے۔ پٹرول کی رسید یا بل پر بھی ایتھنول کی مقدار درج کی جائے۔

سپریم کورٹ نے ’ای-20 پٹرول‘ سے متعلق دائر مفاد عامہ (پی آئی ایل) کی ایک عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ عرضی میں پٹرول میں ایتھنول کی مقدار بتانے اور ایتھنول آمیز ایندھن کی گاڑیوں کے ساتھ مطابقت کے بارے میں مزید شفافیت کے لیے ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وکیل نریندر گوسوامی نے یہ عرضی داخل کی تھی۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسننا بی ورالے کی بنچ نے عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا۔ حالانکہ بنچ نے انہیں اپنی شکایت لے کر متعلقہ ہائی کورٹ جانے کی چھوٹ دے دی ہے۔
عرضی میں مطالبہ کیا گیا کہ پٹرول پمپ کے ہر نوزل پر واضح طور پر لکھا جائے کہ پٹرول میں کتنے فیصد ایتھنول ملایا گیا ہے۔ پٹرول کی رسید یا بل پر بھی ایتھنول کی مقدار درج کی جائے، تاکہ صارف کو معلوم رہے کہ اس نے کون سا پٹرول خریدا ہے۔ اس عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت گاڑی کے لحاظ سے ایک سرکاری فہرست/ڈیٹا بیس تیار کرے، جس میں بتایا جائے کہ کون سی گاڑی ای-20 پٹرول کے لیے موزوں ہے اور کون سی نہیں۔ اس میں کمپنی، ماڈل اور تیاری کا سال وغیرہ کی معلومات شامل ہوں۔ جن پرانی گاڑیوں کے لیے ای-20 موزوں نہیں ہے، ان کے لیے مرحلہ وار ایسی تبدیلی کا انتظام کیا جائے جس کے تحت انہیں کم ایتھنول والا پٹرول دستیاب کرایا جا سکے۔
عرضی گزار نے خود اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکز کی ایتھنول ملانے کی پالیسی کو چیلنج نہیں کر رہے ہیں، بلکہ صرف صارفین کو فروخت کیے جانے والے پٹرول میں ایتھنول کی مقدار کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں۔ گوسوامی نے کہا کہ ’’میں پالیسی کو چیلنج نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف جاننا چاہتا ہوں۔ مجھے جاننے کا حق ہے۔ جب ہم بسکٹ کا پیکٹ بھی خریدتے ہیں تو ہمیں اس میں موجود چیزوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔‘‘
عرضی گزار نے مزید کہا کہ یہ معاملہ شہریوں کے حقوق سے متعلق ہے، نہ کہ کسی ذاتی فائدے سے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ’’ہم جو خرید رہے ہیں، اس کے بارے میں جاننے کا ہمیں حق ہے۔‘‘ جسٹس سندریش کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ بنچ نے گوسوامی سے کہا کہ ’’ہائی کورٹ جائیے اور وہاں عرضی دائر کیجیے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
