عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی پیرول میں توسیع سے سپریم کورٹ کا انکار
2018 میں جودھ پور کی ایک خصوصی پاکسو عدالت نے آسارام کو ایک نابالغ کے ساتھ عصمت دری اور جنسی استحصال کا قصوروار ٹھہرایا تھا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سپریم کورٹ نے منگل (27 اکتوبر) کو راجستھان میں نابالغ کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی پیرول میں توسیع سے انکار کر دیا۔ آسارام گزشتہ 20 روز سے پیرول پر جیل سے باہر ہے۔ آج اس کی پیرول ختم ہو رہی ہے۔ اس سے قبل آسارام نے طبی بنیادوں پر پیرول میں توسیع کی درخواست کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ عرضی میں آسارام کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ اجین کے اسپتال میں داخل ہے۔ اس لیے طبی بنیادوں پر پیرول میں توسیع کی جائے۔
منگل کو سماعت کے دوران عدالت نے پیرول میں توسیع سے انکار کر دیا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ راجستھان حکومت آسارام کی صحت کا خیال رکھے۔ عدالت کے حکم کے مطابق آسارام کو آج شام 5 بجے تک جیل میں خودسپردگی کرنی ہوگی۔ اس سے قبل راجستھان ہائی کورٹ نے سزا یافتہ آسارام کو 3 اگست کو 20 روز کی پیرول دی تھی۔ ایک دوسرے معاملے کی وجہ سے رہائی میں رکاوٹ آنے پر عدالت نے 6 اکتوبر کو ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ 3 اگست کے اپنے سابقہ حکم پر عمل کرتے ہوئے آسارام کو 20 روز کی پیرول پر رہا کرے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو اس حکم پر عمل درآمد کے سلسلے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اس کے بعد آسارام کو 20 روز کی پیرول پر جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ پیرول کے دوران آسارام مدھیہ پردیش کے اجین پہنچا، جہاں سینے میں درد کی شکایت کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 2018 میں جودھ پور کی ایک خصوصی پاکسو عدالت نے آسارام کو ایک نابالغ کے ساتھ عصمت دری اور جنسی استحصال کا قصوروار ٹھہرایا تھا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تب سے وہ اپنی سزا کاٹ رہا ہے۔ حالانکہ وقتاً فوقتاً اسے علاج کے لیے اسپتال جانے کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ جنوری 2023 میں گاندھی نگر کی ایک عدالت نے سورت کی 2 بہنوں سے متعلق جنسی استحصال کے ایک الگ معاملے میں آسارام کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
