درج فہرست قبائل کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ میں کریمی لیئر نافذ کرنے کی درخواست مسترد
سپریم کورٹ نے درج فہرست قبائل کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ میں کریمی لیئر نافذ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سازی اور پالیسی کا معاملہ ہے، جس پر پارلیمان غور کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے درج فہرست قبائل کے لیے انکم ٹیکس میں دی جانے والی خصوصی چھوٹ پر کریمی لیئر نظام نافذ کرنے کی درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر قانون سازی اور حکومتی پالیسی سے متعلق ہے، اس لیے عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
درخواست گزار اشونی اپادھیائے نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ معاشی طور پر انتہائی خوشحال افراد بھی درج فہرست قبائل کے لیے مختص ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو مساوات کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ شمال مشرقی خطے کے بعض قبائلی خاندانوں کے پاس سینکڑوں کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ افراد کالجوں، تجارتی اداروں اور دیگر کاروباری منصوبوں کے مالک ہیں اور سالانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں، اس کے باوجود وہ انکم ٹیکس سے استثنا حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو مراعات دینے کے بجائے صرف معاشی طور پر کمزور اور مستحق قبائلیوں کو فائدہ ملنا چاہیے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے درخواست گزار کے دلائل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر چند افراد کسی قانونی شق کا غلط استعمال کرتے ہیں تو اس بنیاد پر پورے طبقے کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی قانون یا پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ عدالت کے بجائے مقننہ کا اختیار ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پارلیمان اور اس کی مختلف کمیٹیاں ایسے معاملات پر غور کرنے کے لیے مناسب فورم ہیں۔ انہوں نے درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تجاویز متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون سازی کی سطح پر اس پر غور کیا جا سکے۔
