سنگھوبارڈر کھولے جانے کی درخواست سننے سے سپریم کورٹ کا انکار

سونی پت کے باشندوں کی طرف سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ درخواست گزار پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
i

نو ماہ سے زیادہ مدت سے زرعی قوانین کے خلاف کسان احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے اس احتجاج کے مراکز دہلی میں آنے والی مختلف سرحدیں ہیں جس میں سنگھوبارڈر ایک ہے۔ کسانوں کو جب دہلی آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی تووہ سرحدوں پر ہی ڈیرا ڈال کر احتجاج کرنے پیٹھ گئے تھے۔ اب کچھ لوگوں نے سنگھو کی سرحد کو کھلوانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے پیر کے روز ہریانہ اور دہلی کو ملانے والی سنگھو سرحد کو کھولنے کی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔

عدالت عظمی نے سونی پت کے باشندوں کی طرف سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ درخواست گزار پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔


درخواست گزاروں نے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس ہما کوہلی کی ڈویژن بنچ کے منفی تاثرات کے پیش نظر اپنی عرضی واپس لینے کی درخواست کی جسے بنچ نے قبول کر لیا۔ سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔